تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
اسے ضلع دیر کی بدقسمتی کہئے یا کسی کی نظرِ بد، خوبصورت وادیوں کا یہ امن پسند خطہ ایک بار پھر بارود کی بو سے مہکنے لگا ہے۔ ابھی "دوبندو” کے خونچکاں واقعے کی آگ ٹھنڈی بھی نہیں ہو پائی تھی کہ "اتن درہ” میں دہشت گردی کا نیا اژدہا سر اٹھا چکا ہے۔ اتن درہ کے گھیرائو اور وہاں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتِ حال نے پورے علاقے میں تشویش اور خوف کی شدید لہر دوڑا دی ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مقامی رضاکار اور دہشت گرد آمنے سامنے ہیں اور شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس جھڑپ میں اپنی دھرتی اور اپنے بچوں کا دفاع کرتے ہوئے دیر بالا کے دو باہمت رضاکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ مقامی لوگ مدد کی اپیلیں کر رہے ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نہتے شہریوں اور رضاکاروں کو کب تک اس خونریز جنگ میں اکیلا چھوڑا جائے گا؟
سیکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کی اپنی الگ حکمتِ عملی ہوتی ہے اور ان کی قربانیوں سے بھی انکار ممکن نہیں، مگر اس وقت دیر بالا کو کسی بھی تاخیر کے بغیر ایک فیصلہ کن اور فوری اقدام کی ضرورت ہے۔ اگر اس آگ کو وقت رہتے نہ بجھایا گیا اور بات آگے بڑھی تو ناقابلِ تلافی جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ریاست کی رٹ کو کھلم کھلا چیلنج کرنے والے ان شرپسند عناصر کے خلاف بلاامتیاز آپریشن وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
دیر بالا کی سرسبز وادیاں اور اس کے جفا کش عوام اب مزید لاشیں اٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ایک چنگاری کے پورے ضلع کو اپنی لپیٹ میں لینے سے پہلے اربابِ اختیار کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ دیر کے لوگ خوف اور بارود کے سائے میں نہیں جینا چاہتے۔ اس خطے کو آگ اور بارود کی نہیں، بلکہ پائیدار امن اور روشنی کی ضرورت ہے، اور یہ امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔


