لاس اینجلس:ہالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار رابرٹ ڈی نِیرو (Robert De Niro) اپنی سخت گیر سیاسی سرگرمیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کھل کر مخالفت کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ حال ہی میں معروف اداکارہ اور میزبان ایمی پوہلر (Amy Poehler) کے پوڈکاسٹ ‘گڈ ہینگ’ (Good Hang) میں شرکت کے دوران ایک ایسا جذباتی لمحہ آیا جب ڈی نِیرو تعریف سن کر آبدیدہ ہو گئے۔
پوڈکاسٹ کے اختتام پر ایمی پوہلر نے آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دنیا کی موجودہ صورتحال پر ان کے دوٹوک مؤقف اور آواز بلند کرنے کے انداز کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ "عموماً سچ بولنے کی ذمہ داری ایسے لوگوں پر ڈالی جاتی ہے جو حاشیے پر ہوتے ہیں، جن کے پاس زیادہ طاقت یا پوزیشن نہیں ہوتی۔ لیکن یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے شادی کی کوئی تقریب ہو رہی ہو، کوئی شخص وہاں کھڑے ہو کر انتہائی ہرزہ سرائی کر کے پوری تقریب خراب کر رہا ہو—اور وہ تقریب ‘امریکہ’ ہے—تو ایسے میں کوئی دوسرا سمجھدار بالغ شخص اٹھ کر کہے کہ ‘ہم اس طرح بات نہیں کرتے، لوگوں سے ایسا برتاؤ نہیں کیا جاتا، یہ پاگل پن ہے’۔”
پوہلر نے مزید کہا کہ جب رابرٹ ڈی نِیرو طاقتور حلقوں کے سامنے اس طرح کھل کر بولتے ہیں تو اس سے بہت سے ایسے لوگوں کو تحفظ کا احساس ملتا ہے جن کے پاس بولنے کی طاقت نہیں۔ اس جذباتی خراجِ تحسین پر رابرٹ ڈی نِیرو آبدیدہ ہو گئے، ان کا گلا بھر آیا اور ان کی آواز کانپنے لگی۔
ماحول کو ہلکا پھلکا کرنے کے لیے پوہلر نے مذاق میں کہا کہ "مجھے یقین نہیں آ رہا کہ میں نے آپ کو رلا دیا، اس وقت مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے”—اور ساتھ ہی انہوں نے آگے بڑھ کر انہیں ٹشو پیپر پیش کیے۔ اس کے بعد پوہلر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک خاص عمر کے سفید فام مرد جو بے پناہ اثر و رسوخ کے حامل ہیں، وہ عام طور پر اس ذمہ داری کو اس طرح استعمال نہیں کرتے جیسے ڈی نِیرو کر رہے ہیں۔
اپنے جذبات پر قابو پانے کے بعد رابرٹ ڈی نِیرو نے وضاحت کی کہ وہ کیوں بار بار اس نظام اور موجودہ حکومت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں کیا کچھ ہو رہا ہے، یہ سب انتہائی پاگل پن ہے۔ ایک طرح سے یہ اچھا بھی ہے کہ یہ سب کچھ اتنی ڈھٹائی سے سامنے آ رہا ہے کیونکہ اس سے لوگ بیدار ہوں گے۔ یہ شخص (ڈونلڈ ٹرمپ) آنے والے وقتوں میں بھی لوگوں کو متاثر کرے گا، اس لیے ہمیں ہمیشہ چوکنا رہنا ہوگا کہ ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔”

