تحریر :محمد اشفاق
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
حرمین شریفین کی سرزمین کے گرد بڑھتے سکیورٹی خطرات، اسلامی دنیا میں تشویش
① ہرمز میں ایرانی دباؤ اور مذاکرات سے انکار
② عراق کی سمت سے حملے، ایران نواز گروہوں کا مبینہ کردار
③ یمن میں ایران نواز حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے
④ باب المندب تک حوثیوں کی پیش قدمی
⑤ شمال مغرب میں اسرائیل — فوجی نہیں، سیاسی و تزویراتی دباؤ
⑥ سعودی تیل کے مشرقی اور مغربی دونوں راستے دباؤ میں
⑦ امریکا کی محدود مدد اور حوثیوں سے براہِ راست رابطہ
۔⑧ OIC سمیت اسلامی دنیا کی تشویش — آخر یہ صورتحال کہاں جا رہی ہے؟
① ہرمز میں ایرانی دباؤ — ’’حالات اب بدل چکے ہیں‘‘
سعودی عرب کے مشرق میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کا بحران مسلسل گہرا ہورہا ہے۔ ایران نے امریکا کے ساتھ فوری مذاکرات سے انکار کردیا ہے اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ’’تیل اور آبناؤں کے معاملے میں حالات اب بدل چکے ہیں‘‘ اور ایرانی شرائط پوری ہونے تک مذاکرات نہیں ہوں گے۔
اسی دوران ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مقابلے میں انتہائی کم ہوگئی ہے اور عالمی تیل کی قیمتیں 108 ڈالر فی بیرل کے آس پاس پہنچ چکی ہیں۔ تازہ کشیدگی نے سعودی عرب سمیت خلیجی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
② عراق کی سمت سے حملے — ایران نواز گروہوں کا مبینہ کردار
دوسری اہم سمت عراق ہے۔
سعودی عرب کی انتہائی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن عراق سے آنے والے ڈرونز کے حملے کے بعد بند کرنا پڑی۔ یہ وہی پائپ لائن ہے جو ہرمز میں رکاوٹ کی صورت میں سعودی تیل کو مشرق سے ینبع اور بحیرۂ احمر تک پہنچانے کا اہم متبادل فراہم کرتی ہے۔
یہاں معاملہ صرف عراق کی جغرافیائی سمت تک محدود نہیں۔ Reuters کی حالیہ رپورٹنگ ایران سے منسلک عراقی ملیشیاؤں کے سعودی توانائی انفراسٹرکچر پر حملوں کو موجودہ بحران کا حصہ قرار دیتی ہے۔ تاہم ہر مخصوص حملے کیلئے براہِ راست ایرانی حکم عوامی طور پر ثابت نہیں ہوا، اس لیے ایرانی پراکسیز کا کردار جہاں ثابت شدہ نہیں وہاں اسے مبینہ ہی کہنا درست ہوگا۔
③ جنوب میں حوثی — سعودی شہروں تک میزائل اور ڈرون
جنوب میں یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کردیے ہیں۔
تازہ حملوں میں سعودی حکام کے مطابق 13 شہری زخمی ہوئے، جبکہ سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ مملکت کی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کیلئے سخت جوابی اقدامات کیے جائیں گے۔
۔Reuters کے مطابق ایران نواز حوثی نہ صرف سعودی شہروں اور توانائی تنصیبات پر حملے بڑھا رہے ہیں بلکہ یمن کے مغربی ساحل پر بھی آگے بڑھے ہیں۔
④ باب المندب — سعودی عرب کے مغربی تیل روٹ کیلئے دوسرا خطرہ
حوثیوں کی پیش قدمی اب باب المندب جیسے عالمی بحری راستے تک پہنچ گئی ہے۔
یہ سعودی عرب کیلئے خاص طور پر اہم ہے۔ اگر ہرمز میں رکاوٹ آئے تو سعودی تیل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ینبع پہنچ سکتا ہے، لیکن وہاں سے عالمی منڈیوں کی جانب جانے والی بحری تجارت کیلئے بحیرۂ احمر اور باب المندب انتہائی اہم ہیں۔
یوں مشرق میں ہرمز اور مغرب/جنوب مغرب میں باب المندب—سعودی توانائی تجارت کے دونوں اطراف بیک وقت دباؤ دکھائی دیتا ہے۔ Reuters نے بھی حوثیوں کی اہم جزیرے تک پیش قدمی اور سعودی پائپ لائن کی بندش کو عالمی تیل کی سپلائی کیلئے ایک ساتھ ابھرتے خطرات کے طور پر رپورٹ کیا ہے۔
⑤ شمال مغرب میں اسرائیل — لیکن یہاں خطرے کی نوعیت مختلف ہے
چوتھی سمت کو باقی تین سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔
اسرائیل اس وقت سعودی عرب پر عراق یا حوثیوں جیسا فوجی حملہ نہیں کررہا، اس لیے اسے موجودہ میزائل اور ڈرون حملوں کی زنجیر کا حصہ قرار دینے کا کوئی ثبوت نہیں۔
البتہ فلسطین، اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ سعودی خارجہ پالیسی پر ایک الگ سیاسی اور تزویراتی دباؤ ہے۔ سعودی عرب فلسطینی ریاست کے مسئلے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے ساتھ جوڑتا آیا ہے۔
لہٰذا نقشے کی شمال مغربی سمت میں اسرائیل ضرور ایک اہم علاقائی فریق ہے، مگر اسے موجودہ فوجی حملوں کے برابر رکھنا درست نہیں ہوگا۔
⑥ سعودی عرب کے متبادل راستے بھی اب محفوظ نہیں؟
یہ شاید پوری صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو ہے۔
ہرمز میں بحران پیدا ہو تو سعودی عرب کے پاس ایسٹ ویسٹ پائپ لائن تھی۔ پائپ لائن عراق کی سمت سے ڈرون حملے کا شکار ہوگئی۔ تیل ینبع پہنچ بھی جائے تو آگے بحیرۂ احمر اور باب المندب کی سکیورٹی اہم ہوجاتی ہے—جہاں حوثیوں کی طاقت بڑھ رہی ہے۔
۔IEA کے مطابق اگست میں سعودی خام تیل کی عالمی منڈی تک پہنچنے والی سپلائی تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح تک گر گئی، جس میں حوثیوں اور ایران سے منسلک گروہوں کے حملوں سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں اہم عنصر تھیں۔
⑦ امریکا — اتحادی بھی، مگر براہِ راست جنگ سے گریز بھی
یہاں سعودی عرب کیلئے ایک اور مشکل سوال پیدا ہوتا ہے۔
امریکا سعودی عرب کا دہائیوں پرانا دفاعی شراکت دار ہے اور موجودہ بحران میں اسے انٹیلی جنس اور targeting assistance فراہم کررہا ہے۔ لیکن واشنگٹن حوثیوں کے خلاف نئی براہِ راست جنگ شروع کرنے سے گریز کررہا ہے۔
مزید پیچیدگی یہ ہے کہ امریکا حوثیوں سے براہِ راست رابطہ بھی رکھتا ہے، جبکہ 2025 میں عمان کی ثالثی سے امریکا اور حوثیوں کے درمیان الگ جنگ بندی بھی ہوچکی ہے۔
اس لیے سعودی عرب کیلئے سوال صرف دشمنوں کی طاقت کا نہیں، بلکہ اپنے اتحادیوں کی عملی مدد کی حدود کا بھی ہے۔
⑧ اسلامی دنیا میں تشویش — سعودی سلامتی صرف سعودی مسئلہ نہیں
یہ تشویش محض ہماری تعبیر نہیں۔
اسلامی تعاون تنظیم OIC نے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اس سے پہلے OIC نے ایک انتہائی اہم اصولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کی سلامتی پورے عالمِ اسلام کی سلامتی اور استحکام کا بنیادی ستون ہے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال کو محض سعودی عرب اور اس کے ہمسایوں کے درمیان علاقائی تنازع سمجھنا کافی نہیں۔
سعودی عرب حرمین شریفین کی سرزمین ہے۔ اس کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کی مذہبی اور جذباتی اہمیت پوری اسلامی دنیا کیلئے غیر معمولی ہے—اور یہی وجہ ہے کہ سعودی شہروں، شہریوں اور اہم تنصیبات پر بڑھتے حملوں پر اسلامی اداروں اور مسلم ممالک کی تشویش سامنے آرہی ہے۔
آخر بڑھتے دباؤ کے پیچھے کیا ہے؟
اب تصویر پہلی رپورٹ کے وقت سے زیادہ واضح ضرور ہے، مگر مکمل نہیں۔
مشرق میں ہرمز اور ایران، شمال مشرق میں عراق کی سمت سے حملے اور ایران سے منسلک مسلح گروہوں کا مبینہ کردار، جنوب میں ایران نواز حوثی، مغرب میں باب المندب کا بڑھتا خطرہ—اور شمال مغرب میں اسرائیل کے ساتھ الگ سیاسی و تزویراتی تنازع۔
ان سب کو ایک ہی منصوبے کا حصہ قرار دینے کیلئے ابھی ثبوت موجود نہیں۔ خصوصاً اسرائیل کو ایران، عراقی گروہوں اور حوثیوں کے ساتھ کسی مشترکہ منصوبے سے جوڑنا موجودہ شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔
لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ مختلف وجوہات، مختلف فریقوں اور مختلف محاذوں سے پیدا ہونے والا دباؤ بالآخر ایک ہی ملک—سعودی عرب—کی سلامتی، توانائی کے راستوں اور علاقائی حیثیت پر جمع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
اسی لیے اب سوال پہلے سے بڑا ہے:
کیا سعودی عرب واقعی چاروں طرف سے زیادہ غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے؟ اور اگر حرمین شریفین کی سرزمین کے گرد سکیورٹی خطرات کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو سعودی عرب کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا اور اس کے اتحادیوں کا ردعمل کیا ہوگا؟


