تحریر: ڈاکٹر محمد داؤد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کے لیے خلا آج بھی خلا نوردوں، سیاروں، چاند اور سائنسی تحقیق کی دنیا ہے۔ ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمارے ذہن میں جنگ نہیں بلکہ دریافت، تجسس اور کائنات کے راز آتے ہیں۔
لیکن یہ پُرامن تصور تیزی سے بدل رہا ہے۔
امریکہ نے حال ہی میں پہلی مرتبہ کھلے عام تسلیم کیا ہے کہ اس کے پاس خلا میں مدار کے اندر موجود "Space Control Weapons” ہیں۔ امریکی ایئر فورس کے سیکریٹری ٹرائے میِنک نے اس صلاحیت کی تصدیق کی ہے، تاہم واشنگٹن نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ہتھیار اصل میں کس نوعیت کے ہیں، کتنے ہیں اور زمین کے گرد کس مدار میں موجود ہیں۔
اس لیے یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ خلا میں امریکی سیارے میزائل لے کر ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے گھوم رہے ہیں، جیسا کہ ہالی ووڈ کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔
حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور شاید زیادہ تشویش ناک ہو سکتی ہے۔
خلائی ہتھیار کسی دوسرے سیارچے کے مواصلاتی نظام کو جام کر سکتے ہیں، اس کے سگنلز میں خلل ڈال سکتے ہیں، حساس آلات کو ناکارہ بنا سکتے ہیں یا سائبر اور دیگر ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے غیر مؤثر کر سکتے ہیں۔
یعنی کسی سیارچے کو تباہ کرنا ضروری نہیں۔ اسے بے کار بنا دینا بھی ایک ہتھیار ہے۔
سیٹلائٹس اتنے اہم کیوں ہیں؟
آج کی جدید جنگ کا ایک بڑا حصہ خلا پر منحصر ہے۔
GPS ہماری رہنمائی اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کے لیے ضروری ہے۔ فوجی سیٹلائٹس محفوظ مواصلات اور انٹیلی جنس فراہم کرتے ہیں، جبکہ نگرانی کرنے والے سیارچے فوجی نقل و حرکت، میزائلوں اور دفاعی تنصیبات پر نظر رکھتے ہیں۔
اگر یہ نظام اچانک کام کرنا چھوڑ دیں تو دنیا کی جدید ترین فوج بھی جزوی طور پر اندھی، بہری اور بے خبر ہو سکتی ہے۔
اسی لیے امریکہ چین اور روس کی خلائی صلاحیتوں پر گہری نظر رکھتا ہے۔
چین نے 2007ء میں ایک میزائل کے ذریعے اپنا ایک سیٹلائٹ تباہ کرکے اپنی اینٹی سیٹلائٹ صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا تھا۔ روس نے بھی 2021ء میں Cosmos 1408 نامی سیٹلائٹ کو تباہ کیا۔
ان واقعات نے ایک بات واضح کر دی:
اب سیٹلائٹس جنگ سے محفوظ نہیں رہے۔
وہ خطرہ جو ہمیں دکھائی بھی نہیں دے گا
خلائی جنگ کا ایک اور خطرناک پہلو خلائی ملبہ (Space Debris) ہے۔
جب کسی سیٹلائٹ کو خلا میں تباہ کیا جاتا ہے تو اس کے ہزاروں ٹکڑے انتہائی تیز رفتاری سے زمین کے گرد گردش کر سکتے ہیں۔ یہ ٹکڑے دوسرے سیٹلائٹس سے ٹکرا کر انہیں بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یوں ایک ملک کی طرف سے کیا گیا حملہ صرف اس کے دشمن کے سیٹلائٹ تک محدود نہیں رہ سکتا۔
اس کا نقصان ایسے ممالک کے خلائی نظام کو بھی پہنچ سکتا ہے جو جنگ میں شامل ہی نہ ہوں۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ آج شہری اور فوجی خلائی نظام کے درمیان فرق بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ایک تجارتی سیٹلائٹ جو عام لوگوں کے لیے تصاویر یا مواصلاتی سہولت فراہم کرتا ہے، وہی معلومات کسی فوج کے لیے بھی انتہائی قیمتی ہو سکتی ہیں۔
کیا ایک نئی خلائی اسلحہ دوڑ شروع ہو چکی ہے؟
یہ منطق دنیا پہلے بھی دیکھ چکی ہے۔
امریکہ کہتا ہے: ہمیں ہتھیار بنانے ہیں کیونکہ ہمارے مخالفین کے پاس ہیں۔
چین کہتا ہے: ہمیں مزید صلاحیتیں حاصل کرنی ہیں کیونکہ امریکہ آگے بڑھ رہا ہے۔
روس بھی یہی دلیل پیش کر سکتا ہے۔
ہر ملک اپنے ہتھیاروں کو دفاعی قرار دیتا ہے، لیکن دوسرے ملک کے ہتھیار اسے جارحانہ نظر آتے ہیں۔
یہی وہ کیفیت ہے جس سے اسلحے کی دوڑ جنم لیتی ہے۔
1967ء کے Outer Space Treaty میں خلا میں جوہری ہتھیار اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے پر پابندی ہے، لیکن ہر قسم کے روایتی خلائی ہتھیاروں پر مکمل پابندی نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی بہت آگے نکل چکی ہے۔
اگر ایک سیٹلائٹ دوسرے سیٹلائٹ کو تباہ کیے بغیر ناکارہ بنا سکتا ہو تو اسے جنگ سمجھا جائے گا یا نہیں؟
اگر سائبر حملے کے ذریعے کسی ملک کے خلائی نظام کو بند کیا جائے تو اس کا جواب کیسے دیا جائے گا؟
یہ اب سائنس فکشن کے سوالات نہیں رہے۔
اگلی جنگ خاموشی سے شروع ہو سکتی ہے
ممکن ہے مستقبل کی کسی جنگ کا آغاز میزائلوں کے شہروں پر گرنے سے نہ ہو۔
ممکن ہے پہلا حملہ کسی سیٹلائٹ کو اندھا کر دے۔
مواصلاتی نظام میں خلل پڑ جائے۔
GPS سگنلز ناقابلِ اعتماد ہو جائیں۔
فوجی کمانڈروں کا اہم انٹیلی جنس معلومات تک رابطہ منقطع ہو جائے۔
زمین پر شاید کوئی دھماکہ بھی دکھائی نہ دے۔
لیکن جنگ شروع ہو چکی ہو۔
یہ خطرہ صرف امریکہ، چین اور روس کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ آج پاکستان سمیت دنیا کے تقریباً تمام ممالک مواصلات، موسم کی پیش گوئی، نیویگیشن، زراعت، قدرتی آفات سے نمٹنے اور دیگر شعبوں میں خلائی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں۔
خلائی جنگ کا نقصان صرف جنگ کرنے والوں تک محدود نہیں رہے گا۔
آسمان کی خاموشی ہمیں دھوکا دے سکتی ہے
رات کو آسمان کی طرف دیکھیں تو سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے۔
ستارے اپنی جگہ ہیں۔
چاند اپنی جگہ ہے۔
لیکن ہمارے سروں سے سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مصنوعی سیارے خاموشی سے زمین کے گرد گردش کر رہے ہیں۔
کچھ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔
کچھ ہمارے پیغامات پہنچا رہے ہیں۔
کچھ ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔
اور اب امریکہ نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان میں سے کچھ کے ساتھ ہتھیار بھی موجود ہو سکتے ہیں۔
سوال اب یہ نہیں کہ خلا کو عسکری بنایا جا رہا ہے یا نہیں۔
خلا پہلے ہی عسکری میدان بن چکا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اس سے پہلے عالمی قوانین اور حدود طے کر پائے گا کہ آسمان بھی زمین کی طرح ایک میدانِ جنگ بن جائے؟


