تفصیلات: اتر پردیش کی خاتون آئی پی ایس افسر (IPS) بشریٰ بانو کے ایک تقریب کے دوران اپنے خطاب میں "السلام علیکم”، "ان شاء اللہ” اور "جزاک اللہ” جیسے الفاظ استعمال کرنے پر مبینہ طور پر تبادلے کی خبروں نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس اقدام پر کانگریس کے سینئر رہنما اور رکنِ راجیہ سبھا عمران پرتاپ گڑھی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
اہم نکات اور سیاسی ردِعمل:
-
عمران پرتاپ گڑھی کا بیان: کانگریس رہنما عمران پرتاپ گڑھی نے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش حکومت کی تعصب پر مبنی ذہنیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ محض اخلاقی اور روایتی کلمات ادا کرنے پر ایک ایماندار افسر کا تبادلہ کر دیا گیا۔
-
آئین اور آزادیِ اظہار: انہوں نے کہا کہ بھارت کے آئین نے ہر شہری کو اپنے عقیدے اور ثقافت کے مطابق بولنے اور جینے کی آزادی دی ہے۔ اسلامی کلمات کا مطلب خیر سگالی اور شکرگزاری ہے، جسے متنازع بنانا سراسر ناانصافی ہے۔
-
عوامی و سوشل میڈیا کا ردِعمل: سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید بحث جاری ہے، جہاں ایک طبقہ اس فیصلے کو متعصبانہ قرار دے رہا ہے جبکہ انتظامیہ کے اس سخت اقدام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے انتظامیہ سے اس تبادلے کے فیصلہ پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

