واشنگٹن:امریکی فضائیہ نے تاریخ میں پہلی بار باضابطہ طور پر اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ امریکہ نے خلا میں اپنے ہتھیاروں کو تعینات کر دیا ہے جن کا مقصد کسی بھی دشمن کی جارحیت کے خلاف امریکی افواج کا دفاع کرنا ہے۔ میری لینڈ کے شہر نیشنل ہاربر میں منعقدہ "ایئر، اسپیس اینڈ سائبر کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک (Troy Meink) نے یہ ہولناک اور سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔
کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرائے مینک کا کہنا تھا کہ "امریکہ کے پاس اب مدار میں (on-orbit) ایسے خلائی کنٹرول کے ہتھیار موجود ہیں جو مشترکہ افواج کو دشمن کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔”
یہ کسی بھی اعلیٰ امریکی عہدیدار کی جانب سے خلائی ہتھیاروں کی موجودگی کا پہلا عوامی اعتراف ہے، جسے عسکری ماہرین دنیا کے دیگر ممالک (خصوصاً حریف ممالک) کے لیے ایک واضح اور سخت انتباہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم، سیکریٹری فضائیہ نے ان خفیہ ہتھیاروں کی تکنیکی تفصیلات یا ان کی نوعیت کے بارے میں مزید کچھ بھی بتانے سے مکمل گریز کیا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں امریکہ کا اس ٹیکنالوجی کا کھل کر اعتراف کرنا عالمی سیاست اور عسکری توازن میں ایک نئے اور خطرناک دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکا نے فضا کے بعد خلا میں بھی ہتھیار تعینات کر دیے: سیکرٹری یوایس ائیرفورس کے اعلان کے بعد دنیا میں ہلچل

