صدیق احمد سابق وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کی کابینہ میں بھی شامل رہے اور مختلف اہم محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
سلچر : آسام کے سابق وزیر اور کانگریس کے سینئر رہنما صدیق احمد اتوار کی صبح طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ وہ 63 برس کے تھے اور گزشتہ کافی عرصے سے کینسر کے مرض کا علاج کرا رہے تھے۔ ان کے ذاتی سکریٹری صالح احمد کے مطابق صدیق احمد نے سری بھومی ضلع کے باری گرام میں واقع اپنی رہائش گاہ پر صبح تقریباً 8 بجے آخری سانس لی۔
مرحوم رہنما پسماندگان میں اہلیہ انیما بیگم، تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ گئے ہیں۔ صدیق احمد وادیٔ بارک کی سیاست میں ایک نمایاں نام تھے اور کریم گنج جنوبی اسمبلی حلقے سے کانگریس کے ٹکٹ پر چار مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ وہ طویل عرصے تک علاقے میں کانگریس کے اہم سیاسی چہروں میں شمار ہوتے رہے۔
صدیق احمد سابق وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی کی کابینہ میں بھی شامل رہے اور مختلف اہم محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان کے پاس بارڈر پروٹیکشن اینڈ ڈیولپمنٹ، صنعت و تجارت اور کوآپریشن سمیت متعدد محکمے رہے۔ بعد کے سیاسی دور میں انہوں نے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی پہلی مدتِ حکومت کے دوران حکومت کی حمایت کا اعلان کیا تھا، تاہم وہ کانگریس سے وابستہ رہے۔
کانگریس نے انہیں معطل کردیا تھا اور پارٹی کی جانب سے عائد معطلی ان کی وفات تک برقرار رہی۔ ان کے انتقال پر کانگریس کے ترجمان بدبرات بورا نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اب بھی صدیق احمد کو اپنی تنظیم کا حصہ سمجھتی ہے اور انہیں مکمل احترام دیا جائے گا۔

