صنعاء:یمن میں ایک بار پھر حوثی باغیوں (انصار اللہ) اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے درمیان آر پار کی جنگ شروع ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں عسکری محاذ گرم ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یمن میں جاری ان پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک تقریباً 900 افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے اکیلے تعز اور مغربی ساحلی محاذ سے 670 سے زائد ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ صرف شہرِ تعز میں شدید لڑائی کے باعث بیس ہزار سے زائد افراد اور خاندان بے گھر ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
جھڑپوں کا یہ نیا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب حوثی ملیشیا نے ساحلی علاقوں اور تعز کے اطراف پر زمینی حملے کرنے کے ساتھ ساتھ میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے، جن کا مقصد باب المندب کی تزویراتی آبنائے سے ملحقہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ دوسری طرف، یمنی حکومت نے علاقائی سالمیت کو بحال کرنے کی حکمتِ عملی کے تحت الجوف، البیضاء، مارب اور لحج سمیت کئی محاذوں پر ایک بڑا جوابی عسکری آپریشن شروع کر دیا ہے۔
سرکاری افواج نے مغربی ساحلی محاذوں اور الحیدہ کے جنوب میں حیس کے علاقوں میں اہم پیش قدمی کرتے ہوئے کئی اسٹریٹجک پہاڑی چوٹیوں اور عسکری کیمپوں کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔ صوبہ الجوف میں، جسے دارالحکومت کا گیٹ وے مانا جاتا ہے، یمنی مسلح افواج نے اللبنات عسکری کیمپ اور اس کے اطراف کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد الحزم شہر کی طرف پیش قدمی تیز کر دی ہے، جبکہ قبائل بھی سرکاری فوج کی حمایت میں میدان میں آ گئے ہیں۔
انصار اللہ نے الجوف میں ہونے والے فضائی حملوں کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا ہے، جبکہ زمینی لڑائی کے دوران حوثی ملیشیا کی جانب سے تعز کے علاقے الوازعیہ میں بے گھر افراد کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان جاری اس شدید محاذ آرائی سے یمن میں ایک بار پھر انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یمن میں حوثیوں اور سرکاری افواج کے درمیان خونریز جھڑپیں ، ڈبلیو ایچ او کے مطابق 900 افراد ہلاک و زخمی

