صوابی (حق نواز خان)
یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر تحصیل ٹوپی میں ایک تقریب اور قومی یکجہتی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں 6 ستمبر 1965ء کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ملکی دفاع و قومی یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ٹوپی ڈاکٹر یامین ثناء تھے، جبکہ اتمان لویہ جرگہ ٹوپی رجسٹرڈ کے سرپرستِ اعلیٰ شہر افسر خان نے صدارت کی۔ صوابی پریس کلب رجسٹرڈ کے صدر سید عارف شاہ نے تقریب کی میزبانی کے فرائض انجام دیے۔
تقریب کے آغاز میں قومی پرچم لہرایا گیا، جبکہ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے سبز ہلالی پرچم کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر قومی ترانہ بھی پیش کیا گیا۔
تقریب سے صابر الرحمن، سابق تحصیل ناظم سہیل یوسفزئی، سید عارف شاہ اور گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول ٹوپی کے طالب علم محمد دانش نے خطاب کرتے ہوئے یومِ دفاع کی تاریخی اہمیت، شہداء کی قربانیوں اور قومی اتحاد کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔
مقررین نے کہا کہ 6 ستمبر 1965ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس موقع پر پاک فوج کے جوانوں اور ملک کے دفاع کے لیے قربانیاں دینے والے شہداء کو یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یومِ دفاع نئی نسل کو ملکی تاریخ، قومی ذمہ داری اور وطن کے دفاع کے جذبے سے آگاہ کرنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے قومی یکجہتی، قانون کی پاسداری، باہمی احترام اور ذمہ دار شہری کردار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
تقریب میں ریسکیو 1122، سول ڈیفنس آرگنائزیشن، ٹی ایم اے ٹوپی، لوکل گورنمنٹ، سول سوسائٹی، سابق فوجی اہلکاروں اور تحصیل ٹوپی پریس کلب رجسٹرڈ سے وابستہ صحافیوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تقریب کے بعد تحصیل کمپلیکس سے قومی یکجہتی ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ٹوپی ڈاکٹر یامین ثناء، سابق تحصیل ناظم سہیل یوسفزئی اور سید عارف شاہ نے کی۔ ریلی کے شرکاء نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘، ’’پاک فوج زندہ باد‘‘، ’’نعرۂ تکبیر‘‘، ’’پاک فضائیہ زندہ باد‘‘ اور ’’جنرل عاصم منیر زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔
ریلی کے اختتام پر شرکاء نے ملکی سلامتی، امن اور استحکام کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ یومِ دفاع شہداء کی قربانیوں کو یاد کرنے، قومی یکجہتی کو فروغ دینے اور نئی نسل کو ملکی تاریخ سے روشناس کرانے کا اہم موقع ہے۔یہ ورژن اخبارات کے لیے اس لیے زیادہ موزوں ہے کہ خبر اور مقررین کے بیانات الگ رکھے گئے ہیں، کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی طرف سے کوئی اضافی رائے شامل نہیں کی گئی، اور نعروں کو بھی بطور ریلی کی سرگرمی رپورٹ کیا گیا ہے۔

