تحریر: راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پاکستان کی فنونِ لطیفہ، ابلاغ اور نشریاتی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنے فن کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی محنت، لگن، شائستگی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث ایک منفرد مقام حاصل کر لیتی ہیں۔ ناہید طالب بھی ایسی ہی باصلاحیت اور باوقار شخصیت ہیں جنہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان جیسے معتبر قومی اداروں کے پلیٹ فارمز سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اپنی آواز، اندازِ گفتگو اور فنِ پیشکش سے سامعین و ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائی۔
اللہ تعالیٰ نے ناہید طالب کو غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا ہے اور انہوں نے ان صلاحیتوں کو محنت، مستقل مزاجی اور لگن کے ساتھ بروئے کار لا کر اپنے لیے ایک قابلِ احترام مقام بنایا۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی ناہید طالب نے 1996ء میں اناؤنسنگ کے ذریعے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔ ابتدا ہی سے ان کے اندازِ گفتگو، تلفظ، آواز کے اتار چڑھاؤ اور پُراعتماد پیشکش نے انہیں دوسروں سے ممتاز کر دیا۔ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف جلد ہی ہوا اور 1998ء میں انہیں بہترین اناؤنسَر کا ایوارڈ عطا کیا گیا۔
ناہید طالب نے صرف اناؤنسنگ تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی خداداد صلاحیتوں اور مسلسل محنت کے ذریعے کمپیئرنگ اور ڈاکومنٹری کے میدان میں بھی نمایاں مہارت حاصل کی۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، الفاظ کا خوب صورت انتخاب، موضوع پر گرفت اور سامعین و ناظرین سے رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف ہے۔
1997ء میں ریڈیو پاکستان سے ان کے فنی سفر کا ایک اور اہم باب شروع ہوا، جہاں انہوں نے ڈراما آرٹسٹ، سنگر اور کمپیئر کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ریڈیو ایک ایسا فن ہے جہاں فنکار کو صرف آواز کے ذریعے اپنے احساسات، جذبات اور خیالات سامعین تک پہنچانے ہوتے ہیں، اور ناہید طالب نے اس فن میں بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کی آواز میں اعتماد، مٹھاس اور تاثیر نے انہیں ریڈیو کے سامعین میں مقبول بنایا۔
ان کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا اور 2001ء میں ریڈیو پاکستان کی جانب سے انہیں بیسٹ کمرشل کمپیئر کا ایوارڈ عطا کیا گیا۔ یہ اعزاز ان کی مسلسل محنت اور بہترین پیشہ ورانہ کارکردگی کا اعتراف تھا۔ بعد ازاں یونیسف کے ایک پراجیکٹ "دکھ سکھ سانجھے”، جسے معروف لکھاری فاطمہ ثریا بجیا سے منسوب کیا جاتا ہے، کے حوالے سے بھی انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز اس بات کا ثبوت ہے کہ ناہید طالب نے اپنی صلاحیتوں کو صرف تفریحی پروگراموں تک محدود نہیں رکھا بلکہ سماجی اور بامقصد موضوعات کے ابلاغ میں بھی مؤثر کردار ادا کیا۔
ناہید طالب کی فنی صلاحیتوں کا دائرہ مزید وسیع ہے۔ انہوں نے مختلف فلموں کے لیے ڈبنگ کے شعبے میں بھی اپنی آواز اور فن کا استعمال کیا۔ ڈبنگ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں آواز کے ذریعے کردار کے جذبات اور کیفیت کو اس انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے کہ ناظر کو محسوس ہو کہ کردار خود بول رہا ہے۔ ناہید طالب نے اس میدان میں بھی اپنی فنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔
وقت گزرتا گیا مگر ناہید طالب کے فن کا سفر رکا نہیں۔ آج بھی وہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور ایف ایم 95 کے پلیٹ فارمز پر بطور کمپیئر اپنی ذمہ داریاں نہایت خوب صورتی اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہی ہیں۔ ان کا یہ تسلسل اس بات کی دلیل ہے کہ حقیقی فنکار وقت کے ساتھ خود کو بہتر بناتا ہے اور نئی نسل کے لیے اپنی صلاحیتوں کا سفر جاری رکھتا ہے۔
2025ء میں بھی ناہید طالب کی خدمات اور صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے انہیں لاہور پر بہترین ڈاکومنٹری کی بنیاد پر بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کے طویل فنی سفر میں ایک اور خوب صورت سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ناہید طالب نے معروف گلوکارہ عذرا جہاں کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے پوڈکاسٹ میں بھی شرکت کی، جو ان کی ہمہ جہت فنی سرگرمیوں کا ایک اور خوب صورت حوالہ ہے۔ ان کی شخصیت میں فنِ گفتگو، آواز، موسیقی، ڈراما، ڈاکومنٹری، ڈبنگ اور کمپیئرنگ کی مختلف جہتیں یکجا دکھائی دیتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی فنکار کی کامیابی صرف ایوارڈز اور اعزازات کی تعداد سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس نے اپنے فن کے ذریعے ادارے، معاشرے اور اپنے ملک کے لیے کیا کردار ادا کیا۔ اس اعتبار سے ناہید طالب کی خدمات یقیناً قابلِ تحسین ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور ایف ایم 95 کے لیے ان کی طویل، مخلصانہ اور گراں قدر خدمات ایک روشن مثال ہیں۔
ناہید طالب ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے فن کو محض ذریعۂ شہرت نہیں بنایا بلکہ اسے قومی اور معاشرتی ابلاغ کا وسیلہ بنایا۔ ان کی آواز نے نہ جانے کتنے پروگراموں کو وقار بخشا، کتنے موضوعات کو سامعین تک پہنچایا اور کتنے ناظرین و سامعین کے دلوں پر اثر چھوڑا۔
ان کی کامیابیاں نئی نسل کے فنکاروں کے لیے بھی ایک پیغام رکھتی ہیں کہ صلاحیت اللہ تعالیٰ کی عطا ضرور ہے، مگر اسے مقام تک پہنچانے کے لیے محنت، نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور اپنے فن سے مخلص ہونا ضروری ہے۔ ناہید طالب کا فنی سفر اسی حقیقت کی خوب صورت عکاسی کرتا ہے۔
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہیں کہ وہ ناہید طالب کو صحت، خوشی، عزت، کامیابی اور مزید شہرت عطا فرمائے، ان کے فن میں مزید نکھار پیدا کرے اور انہیں اسی جذبے اور عزم کے ساتھ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور دیگر نشریاتی پلیٹ فارمز کے لیے اپنی گراں قدر خدمات جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


