لدھیانہ میں سکھ دیو کور کی میت کو ان کی آخری خواہش کے مطابق گھر کی بہوؤں نے ارتھی کو کندھا دیا۔
لدھیانہ: ماضی سے چلی آ رہی سماجی روایات سے ہٹ کر پرتاپ سنگھ والا گاؤں میں ایک متوفی خاتون کے اہل خانہ کی خواتین نے ان کی آخری خواہش پوری کرنے کے لیے ان کی میت کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر آخری سفر پر روانہ کیا۔
متوفیہ ماتا سکھ دیو کور اپنے علاقے کی دیگر خواتین کے مقابلے میں ترقی پسند سوچ رکھتی تھیں۔ معاشرے کے اس رواج کے برعکس کہ صرف مرد ہی میت کو کندھا دیتے ہیں، ان کے اہل خانہ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کی بہوئیں ہی ان کی میت کو کندھا دیں، ان کی ایک بہو نے کہا، ’’وہ ہمیں کبھی بہو نہیں سمجھتی تھیں، بلکہ اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھتی تھیں۔
اہل خانہ کے مطابق ان کے خاندان میں کبھی بھی جنس کی بنیاد پر امتیاز نہیں کیا گیا۔ جنازے کے موقع پر خواتین کے ذریعے میت کو کندھا دے کر انہوں نے معاشرے میں رائج روایتی سوچ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔
ان کی وفات کے بعد ان کی آنکھیں لدھیانہ فیروزپور روڈ پر واقع ایک آئی اسپتال کو عطیہ کر دی گئیں، تاکہ ان کی آنکھیں ضرورت مند افراد کی زندگی میں روشنی لانے کے کام آ سکیں۔خاتون کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ان کے اہلِ خانہ کے اس عزم کا مشاہدہ کرنے کے لیے علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

