دہلی پولیس پر مبینہ طور پر دو مسلم خاتون صحافیوں کی بے دردی سے پٹائی کرنے کا الزام ہے۔
سرینگر: پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتے کے روز کہا کہ دارالحکومت کے ایک پولیس اسٹیشن میں دو مسلم خواتین صحافیوں پر مبینہ حملے نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے امریکہ میں کیے گئے اس دعوے کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ، ‘مسلمان ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں’۔
محبوبہ نے ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا کہ، "دہلی کے ایک پولیس اسٹیشن کے اندر دو مسلم خواتین صحافیوں پر مبینہ حملے کے بعد، امریکہ میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا یہ دعویٰ کہ مسلمان ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں- ایک بار پھر کھوکھلا ثابت ہوا ہے۔”
سابق وزیر اعلیٰ نے دہلی پولیس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ، مسئلہ اب صرف مسلمانوں کو انتہا پسند عناصر کی طرف سے نشانہ بنانے کا نہیں رہا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا، "یہ اب صرف انتہا پسند ہجوم کی طرف سے مسلمانوں کو گائے کے ذبیحہ کے الزام میں ہلاک (لنچنگ) کرنے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں سے متعلق ہے جو شہریوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، پھر بھی جو مبینہ طور پر اقلیتوں کو مارنے، تذلیل کرنے اور دھمکانے کے لیے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، "جب محافظ حملہ آوروں میں بدل جاتے ہیں، تو خوف ہجوم سے نہیں بلکہ خود نظام سے پیدا ہوتا ہے۔”
واضح رہے، قومی دارالحکومت میں ایک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں دہلی پولیس کی جانب سے دو آزاد خاتون صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی تھی۔ یہ مسلم خاتون صحافی دہلی کے ساکیت میں ایک نجی اسپتال میں ایک نئے ونگ کے افتتاح کی کوریج کر رہی تھیں۔ میڈیا تنظیموں نے اس واقعہ پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
اس پورے معاملے میں پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمن پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن، اور کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے ایک مشترکہ پریس ریلیز جاری کرکے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان تنظیموں نے اس غیر انسانی فعل میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں بشمول ساکیت پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے خلاف فوری تعزیری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ الزام ہے کہ دونوں صحافیوں کو پہلے جائے وقوعہ پر زبردستی ہراساں کیا گیا اور پھر پولیس گاڑی میں گھسیٹ کر ساکیت پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ اسٹیشن کے اندر، انہیں مبینہ طور پر خواتین افسران کی موجودگی میں مارا پیٹا گیا اور ان کی مذہبی شناخت کے بارے میں پوچھا گیا اور انہیں توہین آمیز گالیاں دی گئیں۔

