Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اسکول طلبہ کے لیے جنریٹو اے آئی ، چیٹ بوٹس کے استعمال پر پابندی، اسکرین ٹائم بھی محدود

      لندن دنیا کا پہلا شہر، اوبر کی روبو ٹیکسی سروس شروع

      ” پجیرو کی واپسی “ LEGEND IS BACK

      گوگل میسجز کی خرابی، پرانے پیغامات غلط افراد کو بھیجے جانے کا انکشاف

      196 ملین پاؤنڈ کا مالیاتی خسارہ: جیگوار لینڈ روور (JLR) نے پھربھی اپنی پہلی الیکٹرک لگژری گاڑی مارکیٹ میں اتار دی

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    نئے نقشے پر یورپ اور نارتھ امریکہ سے بڑا نظر آئے گا افریقہ، اقوام متحدہ میں 164 ممالک کی حمایت

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    کینیا کے جغرافیہ داں کیوکو میونڈو کے مطابق نقشے صرف راستہ دکھانے کا کام نہیں کرتے بلکہ وہ کسی خطے کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی شبیہ کو بنانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کا نقشہ بدلنے کی منظوری دے دی ہے۔ نئے نقشے میں افریقہ کا حجم پہلے کے مقابلے زیادہ درست اور حقیقی نظر آئے گا۔ یہ تجویز ٹوگو نے پیش کی تھی اور افریقی یونین (اے یو) کے رکن ممالک نے اس کی حمایت کی۔ تجویز کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ امریکہ نے اکیلے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ 6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس تجویز کو ’کریکٹ دی میپ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد طویل عرصے سے استعمال ہو رہے ’مرکیٹر میپ‘ کی جگہ ایسے نقشے کو فروغ دینا ہے جس میں دنیا کے براعظموں کا حجم حقیقت سے زیادہ قریب نظر آئے۔ حالانکہ اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ لازمی نہیں ہے، یعنی اس سے ’مرکیٹر میپ‘ پر قانونی روک نہیں لگی ہے، لیکن دنیا بھر کے اسکولوں، اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر نئے نقشے کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ ’ایکول ارتھ میپ‘ میں افریقہ اب یورپ اور نارتھ امریکہ سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔

    واضح رہے کہ ’مرکیٹر میپ‘ کو فلیمش نقشہ ساز جیراڈرس مرکیٹر نے 1569 میں بنایا تھا۔ اس کا مقصد سمندر میں سفر کرنے والے یورپی ملاحوں کی مدد کرنا تھا۔ اس وقت دنیا کا نقشہ 2 جہتوں میں بنانا ضروری تھا، لیکن اس سے زمین کے حقیقی حجم میں فرق نظر آنے لگا۔ زمین گول ہے اور اسے ہموار کاغذ پر بالکل درست انداز میں دکھانا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کسی بھی نقشہ میں کچھ نہ کچھ تبدیلی یا سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ مرکیٹر میپ میں خط استوا کے قریب کے علاقے چھوٹے اور قطبین کے پاس کے علاقے بڑے نظر آتے ہیں۔ اسی وجہ سے افریقہ اور گرین لینڈ تقریباً ایک ہی سائز کے نظر آتے ہیں، جبکہ افریقہ گرین لینڈر سے تقریباً 14 گنا بڑا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے افریقہ اور خط استوا کے آس پاس کے ممالک کی اہمیت اور ترقی کی ضروریات لوگوں کو حقیقت سے کم دکھائی دے سکتی ہے۔

    اس مسئلہ کو کم کرنے کے لیے 2018 میں نقشہ سازوں ںے ’ایکول ارتھ پروجیکشن‘ تیار کیا۔ اس میں براعظموں کا رقبہ حقیقی حجم کے زیادہ قریب نظر آتا ہے۔ رواں سال فروری میں افریقی یونین کے تمام 54 رکن ممالک نے اسے اپنایا اور کہا کہ یہ خاص طور افریقہ کے حجم کو بہتر طریقے سے دکھاتا ہے۔ #CorrectTheMap مہم سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ افریقہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں امریکہ، چین، ہندوستان، جاپان، میکسیکو اور یورپ کا بڑا حصہ سما سکتا ہے اور پھر بھی زمین بچی رہے گی۔

    ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسے نے کہا کہ منصفانہ دنیا کی شروعات منصفانہ نقشے سے ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے نقشہ لوگوں کی سوچ اور دیان میں مختلف براعظموں کے مقام کو سمجھنے کے طریقے کو متاثر کرتے ہیں۔ فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئیل بیرو نے بھی اس تبدیلی کی حمایت کی اور کہا کہ نقشہ بدلنے سے دنیا نہیں بدلتی، لیکن غلط تصویر کو درست کرنا حقیقت کے قریب جانے کی طرف ایک قدم ہے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ یارینا فیرینسیوچ نے تجویز کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو بین الاقوامی امن، خوشحالی اور ممالک کے درمیان اچھے تعلقات جیسے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ 16ویں صدی کے نقشوں پر۔ ’افریقہ نو فلٹر‘ کی لیراٹو موگوئیتلاتھے نے کہا کہ افریقہ کو غلط حجم میں دکھانا صرف نقشے کی غلطی نہیں بلکہ افریقہ کے بارے میں قائم تصور کا بھی سوال ہے۔ کینیا کے جغرافیہ داں کیوکو میونڈو کے مطابق نقشے صرف راستہ دکھانے کا کام نہیں کرتے بلکہ وہ کسی خطے کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی شبیہ کو بنانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

    Related Posts

     خاتون کا عطیہِ اعضا، بہوؤں نے روایات کو توڑتے ہوئے ارتھی کو دیا کاندھا

    دہلی میں مسلمان خاتون صحافیوں پر حملے پر محبوبہ کا طنز، کہا۔۔امریکہ میں مسلمانوں سے متعلق بھاگوت کا دعویٰ کھوکھلا

    بھارت میں H1N1 فلو کے معاملات میں اضافہ، ماہرین نے احتیاط کا مشورہ دیا

    مقبول خبریں

     خاتون کا عطیہِ اعضا، بہوؤں نے روایات کو توڑتے ہوئے ارتھی کو دیا کاندھا

    بھارت میں H1N1 فلو کے معاملات میں اضافہ، ماہرین نے احتیاط کا مشورہ دیا

    نئے نقشے پر یورپ اور نارتھ امریکہ سے بڑا نظر آئے گا افریقہ، اقوام متحدہ میں 164 ممالک کی حمایت

    امریکہ نے ایران کے آئل ٹینکر پر کیا حملہ، خارگ جزیرہ کے پاس ہوئے زوردار دھماکے!

    عہدے پر رہوں نہ رہوں، نظام کی تبدیلی سے پیچھے نہیں ہٹوں گا،: محسن نقوی

    بلاگ

    "میں لجپالاں دے لڑ لگیاں، میرے توں غم پرے رہندے” — ایک دفتر، ایک روایت اور مثبت سوچ کی خوبصورت صبح

    دہشت گردی کے خونی پنجوں میں سسکتا دیربالا کا دلکش علاقہ دوبندو

      ایلیمنٹری سکول ظفر آباد میں سالانہ محفلِ میلاد مصطفیٰ ﷺ — علم، ادب، عقیدت اور تربیت کا حسین امتزاج

    ”وزیر اعلی کا کرپشن زیرو ٹالرینس اعلان یا رانا ایاز سلیم کے ماڈل پر عمل ؟“

    پوڈکاسٹ خاموشی سے ہمارے سننے کا انداز بدل رہا ہے

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.