کینیا کے جغرافیہ داں کیوکو میونڈو کے مطابق نقشے صرف راستہ دکھانے کا کام نہیں کرتے بلکہ وہ کسی خطے کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی شبیہ کو بنانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کا نقشہ بدلنے کی منظوری دے دی ہے۔ نئے نقشے میں افریقہ کا حجم پہلے کے مقابلے زیادہ درست اور حقیقی نظر آئے گا۔ یہ تجویز ٹوگو نے پیش کی تھی اور افریقی یونین (اے یو) کے رکن ممالک نے اس کی حمایت کی۔ تجویز کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ امریکہ نے اکیلے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ 6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس تجویز کو ’کریکٹ دی میپ‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد طویل عرصے سے استعمال ہو رہے ’مرکیٹر میپ‘ کی جگہ ایسے نقشے کو فروغ دینا ہے جس میں دنیا کے براعظموں کا حجم حقیقت سے زیادہ قریب نظر آئے۔ حالانکہ اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ لازمی نہیں ہے، یعنی اس سے ’مرکیٹر میپ‘ پر قانونی روک نہیں لگی ہے، لیکن دنیا بھر کے اسکولوں، اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر نئے نقشے کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ ’ایکول ارتھ میپ‘ میں افریقہ اب یورپ اور نارتھ امریکہ سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔

