تحریر:حاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
میرے بہت ہی ہیارے دوست اور عصر حاضر کے ایک عظیم دانشور ” ماما بلو” کہنے لگا کہ میں معذرت خواہ ہوں کہ آج مجھے دنیا میں موجود ایک ایسی قوم کے بارے میں گفتگو کرنی ہے کہ جس کی غالب اکثریت ایسی ہے کہ گندگی کے ڈھیر اسکے اردگرد پڑے ہوتے ہیں لیکن انہیں بدبو تک نہیں آتی۔صفائی تو انہیں چھو کر بھی نہیں گزری۔دو نمبری اور فراڈ میں، بے ایمانی و دھوکہ دہی میں اور جھوٹ بولنے اور مکر و فریب میں دنیا میں ان لوگوں کا پہلا نمبر ہے ۔ملاوٹ کرنا انکا شعار۔رشوت خوری انکا وطیرہ اور کرپشن سے پیسہ کمانا اور پھر تجوریاں بھرنا انکا کاروبار ہے ۔ یہ لوگ بھیک مانگتے ہیں لیکن شرماتے نہیں۔ چوریاں کرتے ہیں یہاں تک کہ کفن تک چوری کر لیتے ہیں۔ یہ لوگ یقینا” انسانوں کی شکل میں حیوان ہیں جن کی درندگی سے انسان تو کیا اب تو جانور بھی محفوظ نہیں ہیں۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے اور بچیاں روزانہ انکی درندگی کا شکار ہوتی ہیں ۔ میڈیا پر روزانہ خبریں بھی چھپتی ہیں لیکن انہیں ابھی تک روکا نہیں جا سکا۔ ایک سبزی والے سے لیکر پھل والے تک۔ایک معمولی سے مستری سے لیکر ایک مکینک تک۔ریہڑی والے سے لیکر مزدور تک۔سب کے سب حرام خور اور ڈنڈی مارنے والے۔کیا استاد،کیا ڈاکٹر، کیا سرکاری ملازم اور کیا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا عہدیدار، سب کے سب کرپٹ،رشوت خور اور انتہائی اعلی! سطح کے بدعنوان۔ مراثیوں،بھانڈوں اور کنجروں سے دین سیکھنے والے اور یہی لوگ انکے آئیڈیل ہیں۔سنی سنائی باتوں پہ یقین کرنیوالے اور علمی باتوں کا رد کرنے والے۔صحابہ کرام اہل بیت اطہار، علماء و فضلاء اور مقدسات کی توہین کرنیوالے یہ سدا کے فرقے باز لوگ جو۔سدا کے جاہل،ان پڑھ اور توہم پرست بھی ہیں ۔
ان سب کچھ کے باوجود انکا دعوی! ہے کہ ہم سے بڑا کوئی عقلمند نہیں۔ہم سے بڑا کوئی عالم و فاضل نہیں۔ہم سے بڑا کوئی ماہر نہیں۔ ہم سے بڑا کوئی کامل و اکمل نہیں۔نیچے سے لیکر اوپر تک، عوام سے لیکر خواص تک اور چھوٹے سے لیکر بڑے تک ، سب کے سب موقع شناس اور مفاد پرست اور پھر دعوی! یہ بھی کہ ہم سے بڑا کوئی متقی و پرہیزگار نہیں۔ہم سے بڑا کوئی نیک و پارساء نہیں۔ہم سے بڑا کوئی خدا کا ماننے والا اور عاشق رسول نہیں کیونکہ ہم خدا کی پسندیدہ اور پیاری مخلوق ہیں۔
حقیقت میں یہ وہ لوگ ہیں کہ جن سے آجکل کی دنیا نفرت کرتی ہے کیونکہ یہ وہاں بھی چوری اور بدتمیزی کرنے سے باز نہیں آتے جہاں پہ جنید و بایزید بھی دم نہیں مارتے تھے اور نہ ہی یہ شخصیت پرستی چھوڑتے ہیں۔
ایمان سے یہ سب کچھ دیکھ کر یہ یقین ہو جاتا ہے کہ پاکستان واقعی اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے اور ثبوت یہ کہ ایسی قوم کے ہوتے ہوۓ بھی ابھی تک چل رہا ہے۔
اب آپ ہی بتائیں کہ میں ” ماما بلو” کو کیا جواب دوں۔حالات تو واقعی ایسے ہیں ہیں۔
رشوت لینے والا دھڑلے سے رشوت لے رہا ہے۔ہر چیز میں ملاوٹ عروج پر ہے۔ ناپ تول میں کمی کوئی چھوڑتا نہیں۔جعلی دوائیاں دھڑا دھڑ بک رہی ہیں۔منشیات کا کاروبار زوروں پر ہے۔ چوری ڈکیٹی اور راہزنی کی وارداتوں میں کمی کی بجاۓ روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔دھوکہ دہی فریب اور مکاری جاری ہے۔ہر شخص صرف اپنے مفادات کے حصول کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔ صرف اپنے پیٹ پہ ہاتھ پھیرنا اس کا وطیرہ بن چکا ہے۔لوگ بھوکے مر رہے ہیں کسی کو کوئی احساس تک نہیں ۔ منافع کے لالچ میں لوگ ذخیرہ اندوزی کر کے اشیاء کو مہنگی بیچتے ہیں ۔ ضروری اشیاء غریبوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ مزدور اور دیہاڑی دار فاقوں پر مجبور ہیں ۔ دوائیاں اتنی مہنگی ہیں کہ مریض خرید نہیں سکتے اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور ہیں۔جو امیر ہے وہ امیر تر اور جو غریب ہے وہ غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔لوگ خود کشی کا سوچ رہے ہیں۔ان لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ انہیں مرنا بھی ہے۔ یہ رویہ کسی ایک شعبے میں نہیں بلکہ ہر شعبہ زندگی میں سرائیت کر چکا ہے۔نا جانے ہم کیوں اس قدر بے حس اور خود پرست ہو گئے ہیں کہ کسی اور کا ہمیں احساس ہی نہیں ہے۔


