پشاور:توانائی کے بحران سے نمٹنے اور ماحول دوست اقدامات کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کا تاریخی شہر ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) ملک کا پہلا ایسا شہر بننے جا رہا ہے جو مکمل طور پر سو فیصد سولر (شمسی) توانائی پر شفٹ کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس انقلابی منصوبے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جس کا مقصد عوام کو سستی بجلی فراہم کرنا اور روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے۔
صوبائی حکام کے مطابق، اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں ڈی آئی خان شہر کی تمام سرکاری عمارتیں، ہسپتال، اسکول، کالجز اور واٹر سپلائی کے نظام کو مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف بجلی کے بلوں کی مد میں سرکاری خزانے پر پڑنے والا بھاری بوجھ کم ہوگا بلکہ بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتیوں سے بھی نجات ملے گی۔
ماہرینِ اقتصادیات اور توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد نے اس قدم کو ایک "گیم چینجر” قرار دیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے جہاں سال کے بیشتر مہینوں میں سورج کی روشنی وافر مقدار میں دستیاب رہتی ہے، جو سولر سسٹمز کی کارکردگی کے لیے انتہائی موزوں ہے۔
اس منصوبے کے تحت عام شہریوں اور تجارتی مراکز کو بھی سولر انرجی کے استعمال کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ شہر کا کُل کاربن فٹ پرنٹ کم سے کم کیا جا سکے۔

