واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہے۔ ٹرمپ نے ان تمام میڈیا رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی انتظامیہ تہران کو کسی نئے معاہدے کی طرف دھکیلنے میں لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی ایسے معاہدے میں قطعی دلچسپی نہیں رکھتے جسے انہوں نے "بے وقعت” قرار دیا۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایک بار پھر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ "ایرانی عوام کب اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے؟” امریکی صدر کے مطابق موجودہ عسکری اور معاشی محاذ آرائی امریکہ کے لیے زیادہ موزوں ہے، کیونکہ اس وقت واشنگٹن کو اہم ترین آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل ہے اور سخت پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت مکمل تباہی کا شکار ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران محض اس ناگزیر انجام کو مؤخر کر رہا ہے جس سے بچنا ناممکن ہے۔
دوسری جانب، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی چند گھنٹے قبل اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ کا سلسلہ اس وقت تک پوری شدت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا جب تک تہران کسی حتمی معاہدے پر پہنچنے کے لیے پوری طرح آمادہ نہیں ہو جاتا۔
اب مذاکرات تو نہیں کرنے، لیکن ایرانی عوام کب اٹھیں گے؟ ”مجبور ٹرمپ کا سوال“


