پتایا بیچ(تھائی لینڈ) :تھائی لینڈ کے دنیا بھر میں مشہور سیاحتی شہر پتایا میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب امریکی بحریہ کے طاقتور طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کی آمد سے عین قبل مقامی پولیس اور انتظامیہ نے جسم فروشی اور جرائم پیشہ گینگز کے خلاف ایک انتہائی سخت اور وسیع کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف مختلف فوجی آپریشنز میں مسلسل 250 دن سمندر کی لہروں پر گزارنے کے بعد یہ جنگی جہاز بدھ کی صبح تھائی لینڈ کے ساحل پر پہنچا ہے۔
اس جہاز پر سوار تقریباً پانچ ہزار امریکی سیلرز، میرینز اور پائلٹس دو ستمبر سے چھ ستمبر تک پٹایا کے ساحلی علاقوں میں اپنی چھٹیاں گزاریں گے۔ اگرچہ پٹایا میں فحاشی اور جسم فروشی کا کاروبار ایک طویل عرصے سے خفیہ طور پر پروان چڑھتا رہا ہے اور ماضی میں اسے ایف بی آئی کی جانب سے دنیا کا ایک بڑا سیکس ٹورازم مرکز بھی قرار دیا گیا تھا، لیکن اس بار امریکی فوجیوں کے استقبال سے پہلے ہی انتظامیہ نے قانون کا شکنجہ سخت کر دیا ہے۔
دوسری طرف پتایا کے مقامی تاجروں اور کاروباری طبقے کے لیے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کی یہ آمد ایک طویل عرصے سے جاری معاشی مندی کے بادل چھٹنے کی طرح ہے۔ پتایا نائٹ لائف بزنس ایسوسی ایشن کی صدر لیزا ہیملٹن نے اس دورے کو تاجروں کے لیے "امید کی کرن” قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2026ء میں کاروباری حالات پچھلے بیس سالوں کے دوران سب سے زیادہ کمزور رہے ہیں۔ میئر پوراماس نگامپیچس کے مطابق ہر امریکی فوجی اپنے قیام کے دوران یومیہ ایک ہزار سے تین ہزار بھات (لگ بھگ 30 سے 90 امریکی ڈالر) خرچ کر سکتا ہے۔
تاہم، ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کڑے ضابطہ اخلاق نافذ کر دیے ہیں۔ 31 اگست کو سٹی ہال میں طے پانے والے فیصلوں کے تحت امریکی فوجیوں کے لیے منشیات کی دکانوں، کینابیز(چرس،حشیش) آؤٹ لیٹس اور بعض واٹر اسپورٹس کے استعمال پر پابندی ہو گی۔
وہ مشہور "واکنگ اسٹریٹ” کی سیر تو کر سکیں گے، لیکن رات دو بجے کے بعد شراب خانوں میں رکنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ تجارتی جنسی خدمات اور بالخصوص بچوں کے استحصال کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔
ان تمام حفاظتی اقدامات کے باوجود ماہرینِ تعلیم اور سیاحت نے اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی فوجیوں کی آمد سے صحت اور سلامتی کے شدید خطرات کا اظہار کیا ہے۔ بینکاک یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر پپتپونگ فکفیئر کا کہنا ہے کہ غیر معمولی گاہکوں کی آمد سے بیماریوں کے پھیلنے اور جنسی استحصال کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
ان خطرات سے نمٹنے کے لیے پٹایا پولیس چیف انیک سراٹھونگیو کی ہدایت پر پولیس نے ساحلی پٹی پر گشت بڑھا دیا ہے اور اب تک پچاس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
بنکاک: 5 ہزار امریکی میرینز چھٹیاں گذارنے پتایا بیچ پہنچے تو پولیس نے کن لوگوں کو کیا گرفتار؟

