کیئو / ماسکو:روس نے یوکرین کے خلاف اپنی کارروائیوں میں شدت لاتے ہوئے ایک بار پھر دارالحکومت کیف اور بحیرہ اسود کے اہم تجارتی شہر اوڈیسا سمیت مختلف علاقوں میں شدید فضائی حملے کیے ہیں۔
روسی وزارتِ دفاع نے منگل کے روز سوشل میڈیا ایپ ٹیلیگرام پر جاری اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ منگل کی شب کیے جانے والے ان حملوں میں خاص طور پر فوجی تنصیبات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے اردگرد کے علاقوں کو ہدف بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق حملے کا دائرہ کار انتہائی وسیع تھا جس میں میزائلوں کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے ڈرونز کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔ دارالحکومت کیف کے مختلف حصوں میں رات گئے دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں، جس سے شہری علاقوں اور توانائی کے نظام کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب، جنوبی یوکرین کے اہم بندرگاہی شہر اوڈیسا اور اس کے گردونواح میں بھی شدید حملے کیے گئے۔ یوکرین کے حکام اور مانیٹرنگ ذرائع کے مطابق ان حملوں میں اوڈیسا کی بندرگاہی تنصیبات، توانائی کے وسائل اور سرحدی علاقوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث روما نیا کے ساتھ واقع "اورلیوکا” بارڈر کراسنگ کو عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کا مقصد سرد موسم سے قبل ملک کے پاور گریڈ اور توانائی کے نظام کو مفلوج کرنا ہے۔ دوسری طرف یوکرینی فضائیہ اور دفاعی نظام نے متعدد فضائی اہداف کو ناکام بنانے کی کوشش کی، تاہم ملک بھر میں کشیدگی کی لہر ایک بار پھر عروج پر پہنچ چکی ہے اور دونوں جانب سے حملوں کا یہ سلسلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

