حافظ آباد : (بےنقاب رپورٹ )
حافظ آباد میں زمین کے تنازعے کے دوران دو نوجوانوں کو مبینہ طور پر زیادتی کے سنگین الزام میں گرفتار کرائے جانے کے بعد سامنے آنے والی نئی پیش رفت نے پولیس کے کردار، مقدمہ فوری طور پر درج نہ کرنے اور مبینہ لین دین کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمیر بھٹی کا اپنے رشتے داروں کے ساتھ اراضی کا تنازعہ چل رہا تھا۔ اسی دوران پولیس ایمرجنسی 15 پر کال موصول ہوئی کہ عمیر اور آصف نے مبینہ طور پر آئیمن اقبال نامی دوشیزہ سے زبردستی زیادتی کی ہے۔ کال کے بعد کالیکی منڈی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے عمیر بھٹی اور آصف کو حراست میں لے لیا، جبکہ آئیمن کی والدہ رضیہ بی بی کی درخواست بھی پولیس کو موصول ہوئی۔

کیا پولیس کے لیے کسی شہری کو سنگین الزام میں گرفتار کرنا اتنا آسان ہے کہ بعد میں چند بیانات، اسٹامپ پیپر اور صلح کے ذریعے پورا معاملہ ختم سمجھ لیا جائے؟ اگر الزام غلط تھا تو کسی شہری کی عزت، آزادی اور ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟ اور اگر الزام درست تھا تو پھر اسے غلط فہمی قرار دینے کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈی پی او حافظ آباد اور متعلقہ سرکل افسر کی ذمہ داری اہم ہو جاتی ہے۔ ایس ایچ او کالیکی منڈی نے اس پورے معاملے سے اعلیٰ افسران کو کیا آگاہ کیا؟ کیا رپورٹ پیش کی؟ گرفتار نوجوانوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بنیاد کیا تھی؟ مقدمہ فوری طور پر درج کیوں نہیں کیا گیا؟ بعد ازاں صلح اور درخواست واپس لینے کے معاملے میں پولیس نے کیا قانونی طریقہ اختیار کیا؟ اور سب سے بڑھ کر، مبینہ طور پر رقم وصول کیے جانے کے الزام پر پولیس کا مؤقف کیا ہے؟
ان سوالات کا جواب کسی زبانی وضاحت سے نہیں بلکہ شفاف، غیر جانب دار اور باقاعدہ محکمانہ تحقیقات سے سامنے آنا چاہیے۔ پولیس کے لیے قانون کی عمل داری کا مطلب صرف کسی شہری کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ شکایت کنندہ اور ملزم، دونوں کے قانونی حقوق کا تحفظ بھی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے پولیس اصلاحات اور احتساب کے وژن کے تناظر میں حافظ آباد کا یہ معاملہ ایک معمولی خاندانی یا اراضی تنازعہ سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ پولیس کے اندر احتساب صرف احکامات، بیانات اور پریس ریلیز تک محدود ہے یا تھانے کی سطح پر بھی قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈی پی او حافظ آباد، متعلقہ سرکل افسر اور اعلیٰ پولیس حکام اس معاملے کی مکمل تحقیقات کروا کر یہ واضح کرتے ہیں یا نہیں کہ زیادتی کے الزام سے لے کر گرفتاری، مقدمہ درج نہ کرنے، صلح، درخواست واپس لینے، مبینہ رقم کی وصولی اور رہائی میں تاخیر تک آخر حقیقت کیا ہے۔
کیونکہ اگر کسی شہری کو پہلے ایک سنگین الزام کے ذریعے حوالات تک پہنچایا جائے، پھر معاملہ صلح تک پہنچے اور اس کے بعد رہائی کے لیے مبینہ رقم کا معاملہ سامنے آئے تو پولیس پر سوالات اٹھے گے۔

