Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اسپیس ایکس نے ناسا کا 4 ارب ڈالر مالیتی جاسوس سیٹلائٹ خلا میں روانہ کر دیا

      آرٹیمیس ٹو کے خلابازوں کیلئے امریکا کا سب سے بڑا اعزاز: صدر صدر ٹرمپ کا نئی خلائی اکیڈمی بنانے کا اعلان

      پیوٹن کا نئی ’وولگا K50‘ کا ٹیسٹ ڈرائیو: "ایک انگلی سے بھی چلائی جا سکتی ہے”

      امریکی تیل کمپنیوں کی لاٹری: ٹرمپ اور وینزویلا کے درمیان "تاریخی تیل ڈیل” ، شیورون اور موبل کے وارے نیارے

      پری پیڈ موبائل بیلنس کی کم از کم میعاد مقرر

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    وزیر اعلی پنجاب کا حکم ٹھاہ:حافظ آباد، ذیادتی کاالزام ،گرفتاری کے بعد مدعیہ مکر گئی، پولیس پر سنگین سوالات

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    حافظ آباد : (بےنقاب رپورٹ )

    حافظ آباد میں زمین کے تنازعے کے دوران دو نوجوانوں کو مبینہ طور پر زیادتی کے سنگین الزام میں گرفتار کرائے جانے کے بعد سامنے آنے والی نئی پیش رفت نے پولیس کے کردار، مقدمہ فوری طور پر درج نہ کرنے اور مبینہ لین دین کے حوالے سے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمیر بھٹی کا اپنے رشتے داروں کے ساتھ اراضی کا تنازعہ چل رہا تھا۔ اسی دوران پولیس ایمرجنسی 15 پر کال موصول ہوئی کہ عمیر اور آصف نے مبینہ طور پر آئیمن اقبال نامی دوشیزہ سے زبردستی زیادتی کی ہے۔ کال کے بعد کالیکی منڈی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے عمیر بھٹی اور آصف کو حراست میں لے لیا، جبکہ آئیمن کی والدہ رضیہ بی بی کی درخواست بھی پولیس کو موصول ہوئی۔

    تاہم معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب عمیر کے رشتے داروں نے پولیس اور فریقین کے درمیان صلح کی کوششیں شروع کیں۔ بعد ازاں آئیمن اقبال اور اس کی والدہ کی جانب سے ویڈیو بیان اور اسٹامپ پیپر سامنے آئے، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست ذاتی رنجش اور غلط فہمی کی بنیاد پر دی گئی تھی، معززین نے غلط فہمی دور کروا دی ہے اور اب ذاتی رنجش بھی ختم ہو چکی ہے۔ رضیہ بی بی کی جانب سے دیے گئے اسٹامپ پیپر میں درخواست کو داخل دفتر کرنے کی استدعا بھی کی گئی۔ اگر ایک سنگین نوعیت کا الزام بعد میں خود مدعیہ اور اس کی والدہ کے مطابق غلط فہمی اور ذاتی رنجش کا نتیجہ قرار دیا گیا تو پولیس نے مبینہ طور پر غلط اطلاع دینے اور دو نوجوانوں کو سنگین الزام میں پھنسانے کے معاملے کی قانونی حیثیت کا جائزہ کیوں نہیں لیا؟ کیا 15 پر کسی شہری کے خلاف اس نوعیت کا سنگین الزام عائد کر دینا اور پھر صلح کے بعد معاملہ ختم کر دینا قانون کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ معاملہ صرف یہاں تک محدود نہیں۔ پولیس کے کردار پر اس سے بھی زیادہ سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمیر کی رہائی کے لیے کالیکی منڈی پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کیے گئے، تاہم ڈی پی او فواد احمد کی رخصت کے باعث عمیر کی رہائی ایک ہفتے بعد، یعنی پیر تک مؤخر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مبینہ رقم کی وصولی کے الزام کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ایک نوجوان کی گرفتاری یا رہائی کا معاملہ نہیں رہے گا بلکہ پولیس اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور بدعنوانی کا سنگین کیس بن سکتا ہے ایک طرف پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے پولیس میں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب حافظ آباد سے سامنے آنے والا یہ معاملہ مبینہ رقم وصولی، کارروائی میں تاخیر اور قانونی طریقہ کار پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ اگر الزام غلط فہمی کی بنیاد پر عائد کیا گیا تھا تو 15 پر مبینہ طور پر غلط کال کرنے اور کسی شہری پر زیادتی جیسے سنگین جرم کا الزام لگانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کیا کارروائی کی گئی؟ اور اگر الزام درست تھا تو پھر مدعیہ اور اس کی والدہ کے مؤقف میں اچانک تبدیلی کی اصل وجہ کیا ہے؟
    کیا پولیس کے لیے کسی شہری کو سنگین الزام میں گرفتار کرنا اتنا آسان ہے کہ بعد میں چند بیانات، اسٹامپ پیپر اور صلح کے ذریعے پورا معاملہ ختم سمجھ لیا جائے؟ اگر الزام غلط تھا تو کسی شہری کی عزت، آزادی اور ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟ اور اگر الزام درست تھا تو پھر اسے غلط فہمی قرار دینے کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈی پی او حافظ آباد اور متعلقہ سرکل افسر کی ذمہ داری اہم ہو جاتی ہے۔ ایس ایچ او کالیکی منڈی نے اس پورے معاملے سے اعلیٰ افسران کو کیا آگاہ کیا؟ کیا رپورٹ پیش کی؟ گرفتار نوجوانوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بنیاد کیا تھی؟ مقدمہ فوری طور پر درج کیوں نہیں کیا گیا؟ بعد ازاں صلح اور درخواست واپس لینے کے معاملے میں پولیس نے کیا قانونی طریقہ اختیار کیا؟ اور سب سے بڑھ کر، مبینہ طور پر رقم وصول کیے جانے کے الزام پر پولیس کا مؤقف کیا ہے؟

    ان سوالات کا جواب کسی زبانی وضاحت سے نہیں بلکہ شفاف، غیر جانب دار اور باقاعدہ محکمانہ تحقیقات سے سامنے آنا چاہیے۔ پولیس کے لیے قانون کی عمل داری کا مطلب صرف کسی شہری کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ شکایت کنندہ اور ملزم، دونوں کے قانونی حقوق کا تحفظ بھی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے پولیس اصلاحات اور احتساب کے وژن کے تناظر میں حافظ آباد کا یہ معاملہ ایک معمولی خاندانی یا اراضی تنازعہ سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ پولیس کے اندر احتساب صرف احکامات، بیانات اور پریس ریلیز تک محدود ہے یا تھانے کی سطح پر بھی قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈی پی او حافظ آباد، متعلقہ سرکل افسر اور اعلیٰ پولیس حکام اس معاملے کی مکمل تحقیقات کروا کر یہ واضح کرتے ہیں یا نہیں کہ زیادتی کے الزام سے لے کر گرفتاری، مقدمہ درج نہ کرنے، صلح، درخواست واپس لینے، مبینہ رقم کی وصولی اور رہائی میں تاخیر تک آخر حقیقت کیا ہے۔
    کیونکہ اگر کسی شہری کو پہلے ایک سنگین الزام کے ذریعے حوالات تک پہنچایا جائے، پھر معاملہ صلح تک پہنچے اور اس کے بعد رہائی کے لیے مبینہ رقم کا معاملہ سامنے آئے تو پولیس پر سوالات اٹھے گے۔

    Related Posts

    اسپیس ایکس نے ناسا کا 4 ارب ڈالر مالیتی جاسوس سیٹلائٹ خلا میں روانہ کر دیا

    جزیرہ لارک پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار: اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا

    لارڈز ٹیسٹ: پاکستان کو 194 رنز سے شکست، بیٹنگ لائن پھر ناکام

    مقبول خبریں

    اسپیس ایکس نے ناسا کا 4 ارب ڈالر مالیتی جاسوس سیٹلائٹ خلا میں روانہ کر دیا

    جزیرہ لارک پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار: اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا

    لارڈز ٹیسٹ: پاکستان کو 194 رنز سے شکست، بیٹنگ لائن پھر ناکام

    وزیر اعلی پنجاب کا حکم ٹھاہ:حافظ آباد، ذیادتی کاالزام ،گرفتاری کے بعد مدعیہ مکر گئی، پولیس پر سنگین سوالات

    تالاب میں ڈوبتے ہوئے نوعمر بھائی کو بچانے کی کوشش میں تین بہنیں ہلاک، بھائی کا سراغ نہ مل سکا

    بلاگ

    محبت کی زبان بے زبان مخلوق بھی سمجھتی ہے

    درہ اوسوڑی، پہاڑوں کے درمیان واقع ایک جنت نظیر گاؤں ’’باندن‘‘

    ننھے سکاؤٹس کی بڑی کامیابی — ضلع خوشاب کا پنجاب بھر میں روشن نام

    ”بے زبانوں کی فریاد سنی گئی“ ملک محمد سلمان کا کالم

    پنجاب پولیس؛ احتساب کا نیا دور؟ اب SHO سے DPOs تک جواب دہ۔ سول بیوروکریسی کے احتساب کا بھی مطالبہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.