یروشلم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور سابق مشیر جیرڈ کشنر، بورڈ آف پیس (BoP) کے سربراہ نکولے ملادینوف اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلئیر نے پیر کے روز یروشلم میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو اور دیگر اعلیٰ اسرائیلی حکام سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔
یروشلم پوسٹ کے مطابق اس اعلیٰ سطح کے اجلاس کا بنیادی مقصد غزہ کے حوالے سے امریکی امن منصوبے کے اگلے مرحلے پر تیزی سے عمل درآمد کرانا اور حماس کے مکمل خاتمے و ہتھیار پھینکنے سے متعلق 15 نکاتی دستاویز سمیت ٹرمپ کے 20 نکاتی پلان کو آگے بڑھانا ہے۔
یروشلم میں ہونے والے اس اہم اجلاس سے قبل، بورڈ آف پیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اتوار کے روز ’دی یروشلم پوسٹ‘ کو بتایا تھا کہ جیرڈ کشنر، ملادینوف اور ٹونی بلئیر نے مصر کے شہر العین میں مصری حکام اور دیگر ثالثوں کے ساتھ طویل ملاقاتیں کی ہیں، جن کا مقصد امن روڈ میپ کے اگلے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی طے کرنا تھا۔ تینوں رہنماؤں نے غزہ کی انتظامیہ کے لیے قائم کردہ ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ کے ارکان سے بھی ملاقات کی تاکہ اس ٹیکنوکریٹ باڈی کو غزہ کی حکمرانی کی باقاعدہ منتقلی سے پہلے تمام منصوبوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق یروشلم میں ہونے والی ان بات چیت کا بنیادی محور امریکی صدر کے 20 نکاتی پلان کو تیزی سے لاگو کرنا ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل اس بات پر مکمل متفق ہیں کہ اس جنگ کا حتمی نتیجہ ایک ’’غیر مسلح حماس‘‘ ہونا چاہیے۔ بورڈ آف پیس کا مقصد ایک ایسا غیر عسکری غزہ تشکیل دینا ہے جہاں حماس تمام حکومتی اختیارات فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت کے حوالے کر دے تاکہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیر نو کا عمل بلا تعطل شروع کیا جا سکے۔
اس منصوبے کا مقصد موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا، غزہ کی انتظامی کمیٹی کو تمام اختیارات کی بتدریج منتقلی کو یقینی بنانا، اور اس بات کی ضمانت دینا ہے کہ مستقبل میں غزہ کے انتظام و انصرام میں حماس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ حماس کے عسکری ڈھانچے کا مکمل خاتمہ، بین الاقوامی استحکام فورس (International Stabilization Force) کی تعیناتی اور اس کے تناسب سے اسرائیلی افواج کا انخلاء بھی اس روڈ میپ کا حصہ ہے۔
بورڈ آف پیس غزہ میں انسانی امداد کے داخلے اور ری کنسٹرکشن کے عمل کو بھی ہنگامی بنیادوں پر تیز کرنے کے لیے کوشاں ہے، تاکہ امدادی سامان چوری ہونے یا دھمکیوں کے ذریعے غائب کیے جانے سے محفوظ رہے۔ اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا کہ اب حماس سے جو مطالبات کیے گئے ہیں ان میں ابہام کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے؛ حماس کو فوری طور پر حکومت اور تمام ہتھیار و عسکری ڈھانچہ چھوڑنا ہوگا تاکہ غزہ دوبارہ کبھی اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کا مرکز نہ بن سکے۔

