Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ٹریفک پولیس اہلکاروں کی چھٹی ؟ چین میں بارش میں ڈیوٹی دیتے روبوٹک اہلکار توجہ کا مرکز

      ایران نے جنگ کے اکھاڑے ، ہتھیار بدل دئیے،سینٹکام کا پہلی ملٹی نیشنل ڈرون ٹاسک فورس ”فالکن اسٹرائک“ کے قیام کا اعلان

      ایک دہائی بعد انسٹاگرام کا لوگو تبدیل: تبدیل شدہ فونٹ پر میمز کی دھوم

      میٹا نے آسٹریلیا میں 7لاکھ 50 ہزار سے زائد فیس بک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیوں کئے!

      ” چرسی پائلٹ“ کے انکشاف کے بعد ایئر انڈیا کا تمام پائلٹس کے لیے ڈرگ ٹیسٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

      دھونکل کے محلہ موچی پورہ کی گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    قیامِ امن کے لیے فورسز کے ساتھ تعاون کی ضرورت

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: ریاض ابوالخیل

      جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    ضلع دیر بالا کو ہمیشہ سے امن، رواداری، بھائی چارے اور باہمی احترام کی سرزمین سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کے عوام نے مشکل اور آزمائش کی گھڑیوں میں بھی قیامِ امن کے لیے مثالی کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں گرد و نواح کے کئی علاقوں میں بدامنی کے واقعات اور آپریشنز کے باوجود دیر بالا کے عوام نے اپنی سرزمین کو حتی الامکان امن کا گہوارہ بنائے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ دیر بالا کا نام ایک نسبتاً پُرامن خطے کے طور پر لیا جاتا رہا ہے۔
    مگر آج کے حالات ایک بار پھر ہم سے سنجیدگی، بصیرت اور ذمہ داری کا تقاضا کر رہے ہیں۔ حالیہ دوبندو کے واقعے نے پورے علاقے میں تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کی۔ اس موقع پر عوام نے جس جذبے، ہمت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور محصور اہلکاروں کی رہائی کے لیے آگے بڑھے، وہ اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے۔ تاہم کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بعد جذبات کے بجائے حکمت، تدبر اور اجتماعی ذمہ داری کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    امن صرف فورسز یا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، لیکن عوام کے تعاون کے بغیر امن کی بنیاد مضبوط نہیں ہوسکتی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دیر بالا کے عوام فورسز اور انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دیں، افواہوں سے گریز کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے دور رہیں جو حالات کو مزید کشیدہ کرنے کا سبب بن سکتا ہو۔
    اس سلسلے میں اہلِ قلم، صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر ہے۔ قلم معاشرے کی رہنمائی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ایک غیرمصدقہ خبر، اشتعال انگیز سرخی یا جذباتی پوسٹ چند لمحوں میں پورے علاقے کی فضا کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس لیے صحافیوں کو چاہیے کہ ہر خبر کی تصدیق کے بعد اسے عوام تک پہنچائیں، حساس معاملات میں ذمہ دارانہ صحافت کو ترجیح دیں اور ایسی معلومات نشر کرنے سے گریز کریں جو خوف، اشتعال یا بے چینی پیدا کریں۔
    آج دیر بالا کو ایسے قلم کی ضرورت ہے جو نفرت کے بجائے محبت کا پیغام دے، اشتعال کے بجائے شعور بیدار کرے اور تقسیم کے بجائے اتحاد پیدا کرے۔ صحافت کا مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ مشکل حالات میں معاشرے کی درست سمت میں رہنمائی کرنا بھی ہے۔
    علمائے کرام بھی اس نازک مرحلے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مساجد، مدارس اور دینی اجتماعات میں امن، برداشت، بھائی چارے، قانون کی پاسداری اور انسانی جان کے احترام کا پیغام عام کیا جائے۔ لوگوں کو سمجھایا جائے کہ اختلاف اپنی جگہ، مگر معاشرے کا امن کسی بھی صورت میں قربان نہیں ہونا چاہیے۔
    اسی طرح سیاسی و سماجی رہنماؤں، قومی مشران، نوجوانوں، تاجر برادری، اساتذہ اور زندگی کے ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ دیر بالا کسی ایک جماعت، گروہ یا طبقے کی نہیں؛ یہ ہم سب کی مشترکہ سرزمین ہے۔ اس کے امن کو نقصان پہنچے گا تو اس کے اثرات کسی ایک گھر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر گلی، ہر بازار اور ہر خاندان متاثر ہوگا۔
    ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ امن صرف بندوق کی خاموشی کا نام نہیں۔ امن دراصل وہ کیفیت ہے جہاں انسان اپنے گھر سے نکلتے ہوئے خود کو محفوظ سمجھے، بازار آباد ہوں، بچے سکول جائیں، نوجوان کھیل کے میدانوں میں ہوں، کاروبار چلیں اور لوگ خوف کے بجائے امید کے ساتھ زندگی بسر کریں۔
    دیر بالا کے عوام نے ماضی میں بھی ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے امن کے محافظ ہیں۔ آج پھر وقت ہم سے اسی کردار کا تقاضا کر رہا ہے۔ ہمیں فورسز اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون، ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ، اور حالات کے ساتھ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
    آئیے! عہد کریں کہ ہم افواہ نہیں پھیلائیں گے، غیرمصدقہ خبر کو آگے نہیں بڑھائیں گے، اشتعال انگیزی سے گریز کریں گے اور ہر ایسے عمل کا حصہ بنیں گے جو دیر بالا کے امن کو مضبوط کرے۔
    کیونکہ امن کسی ایک ادارے کی کامیابی نہیں، پوری قوم کی مشترکہ فتح ہے۔
    دیر بالا نے ماضی میں امن کا پرچم بلند رکھا ہے؛ اب ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اسے مزید مضبوطی سے تھامیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، پُرامن اور روشن دیر بالا چھوڑیں۔

    Related Posts

    غیرت کے نام پررخصتی کرنے کے بہانے گھرلاکربیٹی کا قتل

    یومِ آزادی کیسے منایا جائے؟

    ڈاکٹر ثمینہ گل: اردو ادب کے افق پر ایک درخشاں اور معتبر نام

    مقبول خبریں

    خضدار: شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 10 دہشت گرد ہلاک

    چندی گڑھ: قید پوری کرچکے سکھ قیدیوں کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج، آنسو گیس شیلنگ

    زین حامد کی اداکارہ نمرہ خان کو طلاق

    جنرل (ر)قمرجاویدباجوہ علاج کیلئے بیرون ملک چلے گئے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ضلع اٹک کے ارکان صوبائی اسمبلی کی ملاقات

    بلاگ

    قیامِ امن کے لیے فورسز کے ساتھ تعاون کی ضرورت

    غیرت کے نام پررخصتی کرنے کے بہانے گھرلاکربیٹی کا قتل

    یومِ آزادی کیسے منایا جائے؟

    ڈاکٹر ثمینہ گل: اردو ادب کے افق پر ایک درخشاں اور معتبر نام

    ”بیوروکریٹک مارشل لاء “ ملک محمد سلمان کا کالم

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.