چندی گڑھ: بھارت کی ریاست پنجاب کے شہر موہالی اور چندی گڑھ کے سرحدی علاقے پر سکھ قیدیوں کی رہائی کے مطالبات کے دوران صورتحال اس وقت شدید کشیدہ ہو گئی جب ’قومی انصاف مورچہ‘ کے مظاہرین اور پولیس کے درمیان سخت جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کے گولے فائر کیے، جبکہ اس دوران مظاہرین کی جانب سے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق،قید پوری کرچکے سکھ قیدیوں کی فوری رہائی کے مطالبے کو لے کر موہالی میں تقریباً 2000 مظاہرین جمع ہوئے تھے جنہوں نے چندی گڑھ میں واقع پنجاب گورنر ہاؤس یا لوک بھون کی طرف مارچ کا اعلان کر رکھا تھا۔
’قومی انصاف مورچہ‘ کے اس احتجاج کی قیادت کرنے والے رہنما اور جگتار سنگھ ہوارا کے والد باپو گُرچرن سنگھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا اور احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ وہ پچھلے تین سالوں سے انتہائی امن و امان کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے ہیں، لیکن حکومت انہیں انصاف فراہم کرنے سے گریزاں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد پرامن مارچ کرنا تھا لیکن انتظامیہ بلاوجہ کی رکاوٹیں کھڑی کر کے حالات کو خراب کر رہی ہے۔
گُرچرن سنگھ نے مزید بتایا کہ ان کا بنیادی مطالبہ برسوں سے جیلوں میں قید ان تمام سکھوں کی فوری رہائی ہے جو اپنی قانونی سزائیں پوری کر چکے ہیں۔ اس وقت ان کا فوری مطالبہ قیدیوں میں سے ایک کے لیے دس دن کی پیرول کا حصول ہے تاکہ وہ اپنی شدید بیمار اور بستر پر موجود ضعیف والدہ سے مل سکے۔
جن قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ان میں جگتار سنگھ ہوارا، بلونت سنگھ راجوانا، جگتار سنگھ تارا، پرمجیت سنگھ بھیورا، دیویندرپال سنگھ بھلر، گُردیپ سنگھ کھیڑا، لکھوندر سنگھ لکھا، گُرمیت سنگھ اور شمشیر سنگھ کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد قتل اور دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات میں طویل عرصے سے سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
چندی گڑھ: قید پوری کرچکے سکھ قیدیوں کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج، آنسو گیس شیلنگ

