کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو میڈیکو لیگل افسر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور وہ اب انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔
بدھ کے روز کراچی کے انتہائی اہم اور ہائی پروفائل میر رضا کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اسپتال حکام نے بتایا کہ جناح اسپتال میں میڈیکو لیگل آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر اسامہ کو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین غلطیوں اور غفلت برتنے پر عہدے سے برطرف کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ڈاکٹر اسامہ اب انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے، جہاں کمیٹی ان سے میر رضا کے پوسٹ مارٹم میں سامنے آنے والی مبینہ غلطیوں سے متعلق سوالات کرے گی۔
انکوائری کمیٹی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کا بھی جائزہ لے گی جب کہ تحقیقات کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یاد رہے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے میر رضا کیس میں کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوتاہیاں سب سے ہوئی ہیں محکمہ صحت کے میڈیکو لیگل افسر سے بھی کوتاہی ہوئی۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ میر رضا کیس میں تفتیش کے دوران سامنے آنے والی تمام کوتاہیوں کا تدارک کیا جا رہا ہے جب کہ میڈیکل بورڈ کی تفصیلی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں تاہم پہلے جو میڈیکو لیگل رپورٹ سامنے آئی تھی، پولیس اسی کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھا رہی تھی۔

