نوشہرو فیروز ( رپورٹ ڈسٹرکٹ رپورٹر رجب علی سمون )
نوشہرو فیروز میں ٹرک مزدوروں نے مبینہ طور پر اپنے ہی ساتھی مزدوروں کے ظلم و زیادتی کے خلاف پریس کلب نوشہروفیروز کے سامنے احتجاج کیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب وسطڑو، سعید وسطڑو، سبحان وسطڑو، محمد عرس تگڑ اور منصور وسطڑو نے الزام عائد کیا کہ غلام حیدر مشوری، منظور سولنگی اور محمد علی کلہوڑو گزشتہ پانچ روز سے مسلسل انہیں تشدد اور ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر ان کی ٹرکوں کو نوشہرو فیروز میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، جو ٹرک شہر میں داخل ہوتی ہے اسے ڈنڈوں سے واپس بھیج دیا جاتا ہے اور ڈرائیوروں سے پیسے بھی چھین لیے جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان سے روزانہ بھتہ طلب کیا جاتا ہے اور دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر بھتہ نہ دیا گیا تو کسی بھی ٹرک کو شہر میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
احتجاج کرنے والے مزدوروں نے کہا کہ تقریباً سو ٹرک مزدور بیلچے اٹھائے روزگار کی تلاش میں سڑکوں پر نکلتے ہیں، مگر انہیں مزدوری نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کے بقول انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں اور آج بھی مبینہ تشدد کرکے واپس بھیج دیا گیا۔مزدوروں نے کہا کہ مسلسل پانچ روز سے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہیں اور ان کے بچے فاقوں پر مجبور ہیں۔انہوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ بصورت دیگر انہوں نے خبردار کیا کہ وہ ایس ایس پی آفس کے سامنے ٹائر جلا کر احتجاج کریں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ افراد پر عائد ہوگی۔

