ریاض+لندن:تیل کی قیمتوں میں جمہ کو 1 امریکی ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا ارینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت میں 1.01 امریکی ڈالر، یعنی 1.1 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 90.04 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی دوران امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 1.28 امریکی ڈالر، یعنی 1.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 84.87 امریکی ڈالر فی بیرل پر جا پہنچا۔
جولائی میں برینٹ (Brent) اور ڈبلیو ٹی آئی (WTI) میں 24 فیصد اضافے کی توقع تھی جو مارچ کے بعد ان کا ایک ماہ کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
دوسری طرف امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) یعنی خام تیل کے ہنگامی ذخائر میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو اب سنہ 1983 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ چکے ہیں۔ یہ تشویشناک صورتحال ایک ایسے انتہائی نازک موقع پر سامنے آئی ہے جب دوسری جانب واشنگٹن میں حکام جاری جنگ کے دوران اب تک کے سب سے بڑے اور تباہ کن فوجی حملے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔یہ ذخائر چار دہائیوں (1983ء) کی نچلی ترین سطح پر جاپہنچے ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات اور توانائی کے امور کے تجزیہ کاروں نے اس صورتحال کو ملکی سلامتی اور معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔
تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ، امریکا کے سٹرٹیجک پٹرولیم ذخائر میں تاریخی کمی،1983 کے بعدکم ترین سطح

