لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ملک کا مستقبل سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہوا اور نوجوانوں کا غصہ بالکل جائز ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی تحریک دراصل ملک کے نوجوانوں کے جذبات کی عکاس تھی اور ہر سیاسی جماعت، خصوصاً بی جے پی، کو اس جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر بی جے پی کے ارکان اپنے ہی بچوں سے پوچھیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ طلبہ احتجاج کیوں کر رہے تھے اور نوجوان اس تحریک کی حمایت کیوں کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج میں شامل طلبہ، خاص طور پر طالبات، سے گفتگو کے بعد انہیں طلبہ کی سوچ کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق طلبہ وہ ہوتے ہیں جو کھلے ذہن اور عاجزی کے ساتھ علم حاصل کرتے ہیں، یہ مانتے ہیں کہ سیکھنے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور ہمیشہ نئے علم کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
امت شاہ کی غیر موجودگی پر راجیہ سبھا میں ہنگامہ، کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی
راجیہ سبھا میں وقفۂ سوالات کے دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ رینوکا چودھری نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں غیر موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’امت شاہ کہاں ہیں؟ انہیں ایوان میں بلایا جائے۔‘‘ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی، جس کے باعث کارروائی متاثر ہوئی۔ شور شرابے کے پیش نظر چیئرمین نے راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی غیر موجودگی پر گورو گوگوئی کا حکومت پر حملہ
کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر جاری بحث کے دوران حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب امتحانات جیسے اہم مسئلے پر بحث ہو رہی ہے تو نہ وزیراعظم ایوان میں موجود ہیں اور نہ ہی وزیر داخلہ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسی بحث کا کیا فائدہ جس میں دونوں اہم ذمہ دار شخصیات ہی شریک نہ ہوں۔ گوگوئی نے کہا کہ اپوزیشن کی بنیادی مانگ ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اس معاملے پر جواب دیں، لیکن ان کی غیر موجودگی میں یہ کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت تعلیم اور امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے پر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے، اسی لیے اپوزیشن نے وقفۂ سوالات کے دوران بھی یہ مسئلہ بھرپور انداز میں اٹھایا۔

