ٹانک (بیورو رپورٹ)
ٹانک شہر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک، بے ہنگم پارکنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے باوجود ٹریفک پولیس کے اہلکار شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے دن رات اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں۔مین روڈ سمیت شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک پولیس کے اہلکار شدید گرمی، دھوپ اور سخت حالات کے باوجود سڑکوں پر موجود رہ کر ٹریفک کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے رکشوں، کوچز اور دیگر گاڑیوں کی بے ہنگم پارکنگ کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں، جبکہ ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے والے عناصر کو بھی قانون کے دائرے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ٹریفک انچارج عصمت اللہ خان کنڈی کی نگرانی میں ٹریفک پولیس اہلکار شہر کے مختلف مقامات پر ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متحرک ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹانک جیسے محدود وسائل والے ضلع میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کو کنٹرول کرنا آسان کام نہیں، تاہم ٹریفک پولیس اہلکار اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ بعض عناصر کی جانب سے ٹریفک پولیس کے خلاف بے بنیاد اور یکطرفہ پروپیگنڈا کرنے کے بجائے زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک کے مسائل کی بڑی وجہ غیر قانونی پارکنگ، سڑکوں پر رکشوں اور کوچز کا بے ترتیب کھڑا ہونا اور بعض شہریوں کی جانب سے ٹریفک قوانین کی مسلسل خلاف ورزی ہے۔شہریوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے اہلکار محدود نفری اور وسائل کے باوجود ٹریفک نظام کو چلانے کے لیے سڑکوں پر موجود رہتے ہیں، اس لیے ان کی حوصلہ افزائی کے بجائے بلاجواز تنقید مناسب نہیں۔عوامی حلقوں نے آر پی او ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈی پی او ٹانک سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک پولیس کو مزید نفری، وسائل اور سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ شہر میں ٹریفک نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔شہریوں نے ٹریفک انچارج عصمت اللہ خان کنڈی اور ٹریفک پولیس کے جوانوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریفک نظام کی بہتری صرف پولیس کی نہیں بلکہ عوام کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شہریوں نے ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ٹانک کے عوام نے واضح کیا ہے کہ جو اہلکار شدید گرمی، دھوپ اور مشکل حالات میں سڑکوں پر کھڑے ہو کر عوام کی سہولت کے لیے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، وہ تنقید نہیں بلکہ حوصلہ افزائی اور خراجِ تحسین کے مستحق ہیں

