پیرس:فرانسیسی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پر سکرولنگ اور اکاؤنٹس بنانے پر پابندی کا سخت ترین قانون منظور کر لیا ہے۔ اس اہم قانون سازی کے بعد فرانس یورپی یونین کا پہلا ایسا بڑا ملک بن گیا ہے جس نے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اس قدر جامع اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں سے بھاری اکثریت کے ساتھ منظوری ملنے کے بعد اب یہ قانون فرانس کی آئینی کونسل کے پاس جائزے کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ آئین کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ الاؤنسز اور شیڈول کے مطابق، یکم ستمبر سے 15 سال سے کم عمر کے بچے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نئے اکاؤنٹس نہیں بنا سکیں گے، جبکہ جنوری 2027 سے ان بچوں کے تمام پرانے اور پہلے سے موجود اکاؤنٹس کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ اگر کسی بھی مرحلے پر یہ ثابت ہو گیا کہ صارف کی عمر 15 سال سے کم ہے تو اس کا اکاؤنٹ بلا جھجھک ختم کر دیا جائے گا، ساتھ ہی صارفین کے ذاتی کوائف (Data) کے تحفظ کے لیے بھی فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔
یہ پابندی دنیا بھر کے مقبول ترین پلیٹ فارمز بشمول انسٹاگرام، فیس بک، واٹس ایپ، ایکس (ٹوٹر)، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر سختی سے نافذ ہوگی۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندی صرف سوشل میڈیا کے مواد یا ریلز شیئر کرنے والے حصوں پر لاگو ہوگی، جبکہ روزمرہ کے رابطے کے لیے استعمال ہونے والی میسجنگ سروسز اس کے دائرہ کار سے باہر رکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ویکی پیڈیا جیسے آن لائن انسائیکلوپیڈیا، تعلیمی پلیٹ فارمز اور سائنسی ریسرچ ویب سائٹس پر بھی اس قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔
جنوری 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند ہو جائیں گے!

