کیئو:یوکرین کے صدر ولودی میر زیلینسکی نے ملک میں چند دنوں سے جاری عوامی احتجاج کے بعد 60 سالہ آرمی چیف کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ 43 سالہ میجر جنرل میخیلو ڈراپاتی کو یوکرینی فوج کا نیا کمانڈر ان چیف مقرر کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ روس کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد سے یوکرینی عسکری قیادت میں کی جانے والی سب سے بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔
صدر زیلینسکی نے 60 سالہ اولیکسینڈر سیرسکی کی جگہ ڈراپاتی کو یہ اہم ذمہ داری سونپی ہے، جنہیں ایک قابلِ احترام اور نئی نسل کے تجربے کار جنرل کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور جنہوں نے 2024 سے 2025 تک ملک کی بری افواج کی قیادت کی تھی۔
یہ بڑی تبدیلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے زیلینسکی حکومت کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے حامی 35 سالہ وزیرِ دفاع میخیلو فیڈوروف کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سڑکوں پر احتجاج شروع ہو گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ اس اچانک سیاسی اور عسکری تبدیلی سے میدانِ جنگ میں یوکرین کی حالیہ پیش قدمی اور پیشرفت متاثر ہو سکتی ہے۔

