واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اگست 2028 سے درآمدی جنرک ادویات پر بھاری محصولات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایسی دواسازی کی مصنوعات کی تیاری کو امریکا میں لانا ہے۔ اس اقدام سے بھارت سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے، جو امریکہ کو جنرک ادویات کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ یکم اگست سے امریکا ملک میں درآمد کی جانے والی تمام جنرک ادویات پر دو سال تک صفر فیصد ٹیرف عائد کرتا رہے گا جس کے بعد اسے ایک سال کے لیے 100 فیصد اور پھر 200 فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا، "یکم اگست 2026 سے، امریکہ میں درآمد کی جانے والی تمام جنرک ادویات پر دو سال تک صفر فیصد ٹیرف رہے گا، جس کے بعد ٹیرف کو ایک سال کے لیے 100 فیصد اور پھر 200 فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔” ٹرمپ نے مزید کہا، "یہ ریاستہائے متحدہ میں عام دواسازی کی پیداوار کو دوبارہ شروع کرنا ہے، ان کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے جو مقررہ وقت کے اندر پلانٹس اور آلات بنانے میں ناکام رہیں۔”
صدر نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد امریکہ کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "پیٹنٹ شدہ، برانڈڈ یا اختراعی ادویات سے متعلق پالیسی، جو اتنی کامیاب رہی ہے، وہی رہے گی
امریکا نے جنرک ادویات پر بھاری ٹیرف عائد کردیا، بھارت متاثرہ ترین ملک

