تل ابیب:اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی ممکنہ فرار کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک انتہائی انوکھا اور حیرت انگیز قدم اٹھایا ہے۔ اسرائیلی وزیر برائے تحفظِ ماحولیات نے مگرمچھوں کی قانونی درجہ بندی میں تبدیلی کرتے ہوئے انہیں سکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے تجویز دی تھی کہ فلسطینی قیدیوں کی جیل کے ارد گرد مگرمچھ تعینات کیے جائیں، تاکہ کوئی بھی قیدی فرار ہونے کا سوچ بھی نہ سکے۔ اس مقصد کے لیے وزیر برائے تحفظِ ماحولیات ایدت سلمن نے مگرمچھوں کو ‘جنگلی جانور’ کے بجائے ‘پالے گئے جنگلی جانور’ کی نئی قانونی درجہ بندی میں شامل کر دیا ہے۔ اس حکومتی اقدام کے بعد اب منظور شدہ سکیورٹی ادارے دریائے نیل کے مگرمچھوں کو سکیورٹی مقاصد کے لیے پالنے اور رکھنے کی قانونی اجازت حاصل کر سکیں گے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ تجویز امریکی ریاست فلوریڈا کے اس حراستی مرکز سے مشابہت رکھتی ہے جسے ‘الیگیٹر الکاٹراز’ کہا جاتا ہے۔ ایتمار بن گویر جنوبی اسرائیل میں واقع ‘کیتزیوت جیل’ کے اطراف میں مگرمچھ تعینات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں بڑی تعداد میں فلسطینی قیدی قید ہیں۔
"اگر فرار کا سوچ رہے ہو تو دوبارہ سوچ لو”: ایتمار بن گویر کا دھمکی آمیز بیان
قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اپنے ایک بیان میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ "اگر آپ فرار ہونے کا سوچ رہے ہیں تو دوبارہ سوچیں۔” انہوں نے اس پیغام کے ساتھ مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ایک ایسی تصویر بھی شیئر کی جس میں وہ خود کو ایک مگرمچھ کو پٹے سے تھامے ہوئے دکھا رہے ہیں۔

