واشنگٹن:نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی زخمی ہونے کی اصل تعداد کئی ماہ تک عوام سے چھپائے رکھی۔
ابتدا میں صرف چند زخمیوں کا اعتراف کیا گیا، تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ کم از کم 70 سے زائد امریکی فوجی ایرانی حملوں میں زخمی ہوئے، جن میں متعدد کو دماغی چوٹ (Traumatic Brain Injury)، دھماکوں کے اثرات اور دیگر شدید زخم آئے۔ کئی اہلکاروں کو اردن سے جرمنی، قطر اور پھر امریکہ منتقل کر کے خصوصی علاج فراہم کیا گیا، جبکہ متعدد فوجی کئی بار طبی معائنے سے گزرے۔ رپورٹ کے مطابق کانگریس کے ارکان اور فوجیوں کے اہلِ خانہ کو بھی بروقت مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس پر پینٹاگون کی شفافیت اور جوابدہی پر شدید سوالات اٹھے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ زخمیوں کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھتی گئی کیونکہ بعض فوجیوں میں دماغی چوٹ کی علامات حملوں کے کئی دن یا ہفتوں بعد ظاہر ہوئیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عوام اور قانون سازوں کو بروقت درست اعدادوشمار نہ دینا ایک سنگین معاملہ ہے۔
تاہم ابامریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری شدید عسکری کشیدگی اور جھڑپوں کے دوران کم و بیش 100 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔
While nearly 100 service members were deemed to have some degree of injury since July 7, 2026, 96% have returned duty. They are determined to get back in the fight.
The vast majority of injuries experienced were minor concussions. Further updates will be posted on the Defense… https://t.co/mWczpvwGSQ
— Sean Parnell (@SeanParnellASW) July 20, 2026
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، 7 جولائی سے اب تک مختلف کارروائیوں میں زخمی ہونے والے ان فوجیوں کو مختلف نوعیت کے زخم آئے، تاہم ان میں سے 96 فیصد اہلکار طبی امداد کے بعد دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس جا چکے ہیں۔

