سکھر سے ڈویزنل بیوروچیف نصیر لاشاری کی رپورٹ
سکھر: دو روز گزرنے کے دو روز گزرنے کے باوجود سندھ اور بلوچستان کے کاشتکاروں سے مذاکرات کے لیے تاحال کوئی سرکاری وفد نہیں پہنچا۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج بدستور جاری ہے اور جب تک ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔مظاہرین کے مطابق ان کا بنیادی مطالبہ اپنے حصے کا پانی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مذاکرات شروع نہ کیے اور پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی تو وہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے قومی شاہراہ بند کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج بدستور جاری ہے اور جب تک ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔
مظاہرین کے مطابق ان کا بنیادی مطالبہ اپنے حصے کا پانی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مذاکرات شروع نہ کیے اور پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی تو وہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے قومی شاہراہ بند کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

