ملتان کے تھانہ بستی ملوک کی پولیس نے سات سالہ اورنگزیب کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر اس کے بچپن کا قتل کر دیا۔
تیسری جماعت کا یہ بچہ، جس کے ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے تھا، آج وہ پولیس کے ظلم کا نشانہ بن کر کچہری کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ماں رو رو کر دہائیاں دے رہی ہے کہ دشمنی کی وجہ سے ان کے معصوم بچے پر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے۔ کیا ہمارے قانون میں معصومیت کی کوئی جگہ نہیں؟ کیا پولیس کی وردی کا رعب اب سات سال کے بچوں پر چلے گا؟ مہر عمران نواز کے مطابق یہ ایک جھوٹے مقدمے کا شاخسانہ ہے۔ پڑوسیوں سے جھگڑے کا انتقام کیا ایک تیسری جماعت کے بچے سے لیا جائے گا؟ پولیس کا یہ غیر انسانی رویہ نہ صرف قانونی طریقۂ کار کی دھجیاں اڑاتا ہے بلکہ یہ بتاتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اخلاقیات کی کس نچلی سطح پر گر چکے ہیں۔

