تحریر اشفاق سلہری
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کنڈیاری کے کھڈر محلے میں 20 سالہ خوشبو چانڈیو کا قتل صرف ایک افسوسناک فوجداری واقعہ نہیں بلکہ یہ ہمارے نظامِ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ ایک ایسی خاتون، جس نے اپنی جان کو لاحق خطرات سے متعلق پیشگی پولیس سے رجوع کیا، این سی درج کروائی، اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور تحفظ کی درخواست دی، بالآخر اسی خدشے کا شکار ہو گئی جس کا وہ بار بار اظہار کر رہی تھی۔
اطلاعات کے مطابق خوشبو چانڈیو نے پسند کی شادی کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات کے باعث اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کی شکایت پولیس کو دی تھی۔ اگر واقعی متعلقہ پولیس نے اس درخواست پر بروقت اور مؤثر کارروائی نہیں کی تو اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ شہری جب قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تحفظ مانگتے ہیں تو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کی شکایات کو سنجیدگی سے لے اور خطرات کا بروقت تدارک کرے۔اس واقعے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ خوشبو چانڈیو چار ماہ کی حاملہ تھیں۔ ان کی جان کے ساتھ ایک معصوم زندگی بھی دنیا میں آنے سے پہلے ہی ختم ہو گئی، جبکہ ان کے والدین شدید زخمی ہوئے۔ یہ سانحہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔دوسری جانب حملے کے حوالے سے مقتولہ کی والدہ نے زخمی حالت میں بعض افراد پر الزام عائد کیا ہے۔ تاہم قانون کا تقاضا ہے کہ پولیس تمام شواہد، بیانات اور فرانزک بنیادوں پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے، تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں اور کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو، جبکہ اصل ذمہ دار قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ پولیس ایسے تمام مقدمات کا ازسرِ نو جائزہ لے جن میں شہریوں نے پہلے سے جان کے خطرے کی اطلاع دی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ان معاملات میں غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے پر متعلقہ اہلکاروں کا بھی احتساب کیا جائے، کیونکہ بروقت کارروائی کئی قیمتی جانیں بچا سکتی ہے۔خوشبو چانڈیو کی موت ایک ایسا سوال چھوڑ گئی ہے جس کا جواب صرف انصاف، شفاف تحقیقات اور مؤثر اصلاحات ہی دے سکتی ہیں۔ اگر اس سانحے سے بھی سبق نہ سیکھا گیا تو کل کوئی اور شہری اپنی فریاد لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہے گا، اور شاید ایک اور جان بچانے کا موقع ضائع ہو جائے۔


