اسلام آباد:پاکستان میں بجلی کے صارفین کے لیے ایک بار پھر بری خبر ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے جون 2026 کے لیے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 20 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کر دی ہے۔
اگر نیپرا کی جانب سے اس درخواست کو منظور کر لیا جاتا ہے تو صارفین پر ایک ماہ کے دوران 18 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ یہ مجوزہ اضافہ ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت مانگا گیا ہے، جس کا مقصد بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی کو صارفین تک منتقل کرنا ہے۔
نیپرا اس درخواست پر 29 جولائی کو باقاعدہ سماعت کرے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔ منظوری کی صورت میں یہ اضافی چارجز پورے ملک کے صارفین کے بلوں میں شامل کیے جائیں گے، جس کا اطلاق نیپرا کے طے کردہ قوانین اور کیٹیگریز کے مطابق ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیپرا کے اپنے ڈیٹا کے مطابق جون کے مہینے میں بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی اوسط قیمت میں ماہانہ بنیادوں پر 1 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد یہ قیمت 9 روپے فی یونٹ رہی ہے۔ اس کے باوجود قیمتوں میں اضافے کی درخواست نے صارفین میں تشویش پیدا کر دی ہے کہ ایندھن سستا ہونے کے باوجود قیمتیں کیوں بڑھائی جا رہی ہیں۔
اگلے ماہ کا بل ہوگا بھاری،مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک اور جھٹکا؛ بجلی کے نرخوں میں اضافے کا امکان

