لاہور: ویلنشیاء ٹاؤن میں ماں اور تین بچوں کی ہلاکت کے واقعے کا مقدمہ قتل کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق حالات و واقعات کی روشنی میں بچوں کو قتل کیا گیا، جبکہ وقوعہ کے روز گھر میں حلوہ، چاول اور سالن پکایا گیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ کھانوں کے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، زہر کی نوعیت اور واقعے کے حقائق کا تعین فرانزک رپورٹس کی روشنی میں ہوگا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں گھر میں مزاحمت کے کوئی شواہد نہیں ملے، جبکہ زیر حراست گھر کے سربراہ کا موبائل فون بھی تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
حلے دار عرفان کاکہناتھا کہ بچوں کے رونے کی آواز سنی تو فوری گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا،گھر کے مالک سے بچوں کے رونے کے حوالے سے استفسار کیا، گھر کے مالک نے کہا میرے بچے دیکھنے گئے ہیں،اسی دوران گھر کے مالک کی اہلیہ باہر آکر چلانے لگی،خاتون نے کہامجھے اور میرے بچوں کو بچا لیں، یہ ہمیں قتل کررہا ہے۔
محلے دار نے بتایا کہ گھر میں جا کر دیکھا تو 2بچے مردہ حالت میں پڑے تھے،اس دوران خاتون کو بھی خون کی قے آئی اور وہ گر پڑی، خاتون کو نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی۔
پولیس نے بتایا کہ گھر میں برتنوں، ڈریسنگ ٹیبل اور دروازوں کے لیورز سے فنگر پرنٹس حاصل کر لیے گئے ہیں، جبکہ فنگر پرنٹس رپورٹ سے یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ اہل خانہ کے علاوہ گھر میں کون آیا تھا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کچھ عرصہ قبل امریکا سے پاکستان آیا تھا، جبکہ واقعے سے متعلق حقائق جلد سامنے آ جائیں گے۔
ویلنشیا ٹاؤن میں امریکا پلٹ ماں بچوں کا قتل، اہم پیشرفت سامنے آگئی

