واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک مقبول پوڈ کاسٹ کو دیے گئے طویل انٹرویو میں جیفری ایپسٹین کے حوالے سے انتہائی تہلکہ خیز دعوے کیے ہیں۔ جے ڈی وانس نے دعویٰ کیا کہ آنجہانی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے نہ صرف امریکی انٹیلیجنس بلکہ اسرائیل کی انٹیلیجنس کے "اعلیٰ ترین سطح” کے ساتھ گہرے روابط تھے۔
جو روگن کے ساتھ تین گھنٹے طویل انٹرویو میں جے ڈی وانس نے خود کو "ایپسٹین سازشی نظریات” کا حامی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایپسٹین کے اسرائیل کے بائیں بازو کے سیاسی عناصر اور "اسرائیلی ڈیپ اسٹیٹ” کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔ تاہم، انہوں نے اپنے دعووں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیے اور یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی مراد "ڈیپ اسٹیٹ” سے کیا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ پہلے ہی ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں کہ ایپسٹین اسرائیلی انٹیلیجنس کے لیے کام کرتے تھے۔
اسرائیلی مہم پر سخت ردعمل
ایران کے ساتھ حالیہ جنگ بندی کے معاہدے کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے جے ڈی وانس نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل سے فنڈز حاصل کرنے والے کچھ لوگ ایران کے ساتھ معاہدے کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "جو لوگ اسرائیلی پیسے لے کر میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، میرا انہیں صرف ایک جواب ہے: جہنم میں جائیں! میں وہی کروں گا جو امریکی عوام کے مفاد میں ہے۔”
جے ڈی وانس نے یہودی ارب پتی مخیر شخصیت لیس وکسنر کے ساتھ ایپسٹین کے تعلقات پر بھی بات کی۔ انہوں نے قیاس آرائی کی کہ ایپسٹین شاید وکسنر کے "ٹیکس امور” سنبھالتے تھے اور اسی کے ذریعے وہ لوگوں کو بلیک میل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وکسنر پہلے ہی اپنے اور ایپسٹین کے روابط پر وضاحت دے چکے ہیں اور غلط کاموں سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔
جے ڈی وانس کا یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ ان کا مجوزہ امن معاہدہ سرد خانے کی نذر ہو چکا ہے اور صدر ٹرمپ نے اس ہفتے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جے ڈی وانس کے ان ریمارکس نے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات میں نئی تلخی پیدا کر دی ہے بلکہ امریکی سیاسی حلقوں میں بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
جیفری ایپسٹین کے اسرائیلی انٹیلیجنس سے تعلقات تھے،اسرائیل کو "جہنم میں جانے” کا مشورہ، جے ڈی وینس

