اداکار عامر خان کی مبینہ تیسری شادی سے متعلق تنازع مزید گہرا گیا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے کی جانب سے عامر خان کو ’’لو جہاد کا برانڈ ایمبیسیڈر‘‘ قرار دینے کے بعد اب ایودھیا کے مذہبی لیڈر پرمہنس آچاریہ بھی اس معاملے میں انتہائی سنگین اور اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جو شخص عامر خان کو قتل کرے گا، اسے 5 کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔
بالی ووڈ اداکار عامر خان کی مبینہ تیسری شادی کے حوالے سے شروع ہونے والا تنازع اب مزید سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت کے وزیر نتیش رانے کی جانب سے عامر خان کو ’’لو جہاد کا برانڈ ایمبیسیڈر‘‘ قرار دینے کے بعد ایودھیا کے تپسوی چھاؤنی کے پیٹھادھیشور جگدگرو پرمہنس آچاریہ نے بھی اس معاملے پر انتہائی سنگین اور اشتعال انگیز بیان دیا ہے۔
پرمہنس آچاریہ کا متنازع اعلان
پرمہنس آچاریہ نے نتیش رانے کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جو شخص اداکار عامر خان کو قتل کرے گا، اسے وہ اپنی جانب سے 5 کروڑ روپے انعام دیں گے۔انہوں نے عامر خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس عمر میں انسان کو خدا کا نام لینا چاہیے، اس وقت وہ مبینہ طور پر تیسری شادی کرکے ’لو جہاد‘ کا پیغام دے رہے ہیں۔
نتیش رانے کے بیان سے شروع ہوا تنازع
اس تنازع کی ابتدا بی جے پی لیڈر اور مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے کے ایک بیان سے ہوئی تھی۔ انہوں نے اہلیانگر میں ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ جب معروف شخصیات اپنی ذاتی زندگی میں ایسے فیصلے کرتی ہیں تو ہندو سماج کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عامر خان کیا ’لو جہاد‘ کے برانڈ ایمبیسیڈر نہیں بن رہے؟ انہوں نے ہندو نوجوانوں سے بھی اپیل کی تھی کہ ایسے اداکاروں کی فلموں کی حمایت کرنے سے پہلے سوچیں۔واضح رہے کہ دائیں بازو کی بعض تنظیمیں ’لو جہاد‘ کی اصطلاح ان معاملات کے لیے استعمال کرتی ہیں، جن میں ان کے مطابق مسلم مرد غیر مسلم خواتین سے شادی کرتے ہیں۔
پولیس اور خفیہ محکمے کی خاموشی برقرار
رپورٹس کے مطابق عامر خان نے رواں ماہ 5 جولائی کو ممبئی کے باندرہ علاقے میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ایک نجی تقریب میں گوری اسپریٹ سے شادی کی۔ اس سے قبل ان کی شادی رینا دتہ اور بعد ازاں فلم ساز کرن راؤ سے ہوئی تھی، جن سے بعد میں ان کی علیحدگی ہو گئی۔تاہم نتیش رانے کے بیان اور پرمہنس آچاریہ کے متنازع اعلان پر تاحال عامر خان یا ان کی ٹیم کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔وہیں پنڈت پرمہنس کے انتہائی سنگین اور اشتعال انگیز بیان پر سرکاری خفیہ محکمہ اور پولیس کی جانب سے کسی بھی طرح کے ایکشن کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
نوٹ: کسی شخص کو قتل کرنے پر انعام کا اعلان انتہائی سنگین اور اشتعال انگیز بیان ہے۔ اس طرح کے بیانات قانون اور عوامی سلامتی کے نقطۂ نظر سے قابلِ اعتراض ہیں، اور ان کا مطلب یہ نہیں کہ ان الزامات یا دعوؤں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

