رپورٹ مجیب کھوسو
جیکب آباد کے ایک نجی میڈیکل سینٹر میں مبینہ طبی غفلت کا انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ورثاء کے مطابق دورانِ زچگی خاتون ڈاکٹر کی مبینہ لاپرواہی کے باعث نومولود بچے کا سر دھڑ سے الگ ہو گیا، جس کے بعد اسپتال میں کہرام مچ گیا۔متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ خاتون ڈاکٹر نے مناسب طبی سہولیات اور احتیاطی تدابیر کے بغیر زچگی کرانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں یہ المناک سانحہ پیش آیا۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ جب صورتحال بگڑ گئی تو مبینہ طور پر اپنی غفلت چھپانے کی کوشش کی گئی اور متاثرہ خاندان کو انصاف دینے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔واقعے کے خلاف ورثاء اور علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ذمہ دار خاتون ڈاکٹر اور نجی میڈیکل سینٹر کی انتظامیہ کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے، شفاف تحقیقات کرانے، قانونی کارروائی کرنے اور میڈیکل سینٹر کو سیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔شہریوں نے کہا کہ نجی اسپتالوں اور میڈیکل سینٹرز میں مبینہ غفلت کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویش ناک ہیں اور متعلقہ اداروں کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث ایسے واقعات بار بار پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے حکومتِ سندھ، محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروا کر حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو ایسے سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔a

