تحریر محمد اشفاق پسرور
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
"تاریخ کا پہلا اور آخری جنازہ… جس میں شریک ہونے کے لیے انگریز سرکار نے مسلمانوں پر ‘ٹیکس’ لگا دیا تھا!”
.آج بھی قصور کے قبرستان میں نظام لوہار کی قبر پنجاب کی دھرتی کے اس بہادر سپوت کی گواہی دے رہی ہے۔
"تاریخ کا پہلا اور آخری جنازہ… جس میں شریک ہونے کے لیے انگریز سرکار نے مسلمانوں پر ‘ٹیکس’ لگا دیا تھا
یہ 1877 کی بات ہے، جب پنجاب کے ایک غریب لوہار کا جنازہ اٹھا تو انگریزوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ سرکار نے اعلان کیا کہ جو اس جنازے میں جائے گا، اسے 2 روپے (جو آج کے لاکھوں کے برابر ہیں) فیس دینی ہوگی۔ مگر پھر بھی 18 ہزار لوگوں کا سمندر امڈ آیا!
یہ جنازہ تھا پنجاب کے رابن ہڈ… نظام لوہار کا!
کہانی اس رات شروع ہوئی جب ایک ظالم انگریز افسر نے نظام کے گھر گھس کر اس کی بوڑھی ماں کو قتل اور جوان بہن کی بے حرمتی کی۔ نظام لوہار نے اسی رات اپنی بھٹی میں لوہا نہیں، اپنا غصہ پگھلایا۔ اس نے بہن کو محفوظ مقام پر بھیجا اور اگلے ہی دن تھانے کا دروازہ توڑ کر اس انگریز افسر کا سر دھڑ سے الگ کر دیا!
اس کے بعد نظام انگریزوں کے لیے موت کا فرشتہ بن گیا۔ اس نے چن چن کر انگریز افسروں (بشمول رونالڈ) کو جہنم واصل کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران اس نے سوجھا سنگھ نامی ایک باغی کو پولیس سے چھڑایا، جس کی ماں نے نظام کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔
لیکن تاریخ گواہ ہے، شیر کبھی کتوں سے نہیں ہارتا، اسے ہمیشہ اپنوں کی غداری مارتی ہے!
سوجھا سنگھ ایک لڑکی کے عشق میں اندھا ہو گیا۔ جب نظام نے اسے روکا تو سوجھا نے 10 ہزار روپے اور 4 مربع زمین کے لالچ میں رات کے اندھیرے میں پولیس کو نظام کے ٹھکانے پر لے آیا۔
پولیس نے چھت پھاڑ کر حملہ کیا۔ نظام آخری گولی تک لڑتا رہا، اور جب گولیاں ختم ہو گئیں تو اس نے ہتھیار پھینکنے کے بجائے مسکرا کر کہا: "پنجاب کا شیر، کتوں کے آگے سر نہیں جھکائے گا!” اور سینہ تان کر انگریزوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔
لیکن اس کہانی کا اصل کلائمکس اس کی موت کے بعد آیا!
جب سوجھا سنگھ کی بوڑھی ماں کو پتہ چلا کہ اس کے اپنے سگے بیٹے نے مخبری کر کے نظام کو مروایا ہے، تو اس بوڑھی شیرنی نے بھری پنچایت میں اپنے سگے بیٹے سوجھا سنگھ کے سینے کے پار برچھی کر دی! بیٹا تڑپتا رہا اور ماں نے چیخ کر کہا: "نظام پنجاب کا بیٹا تھا! تو نے غداری کی ہے، میں تجھے قیامت تک اپنا دودھ نہیں بخشوں گی!”


