قصور:قصور میں ایک بار پھر نوجوانوں کو مبینہ طور پر جھانسے میں لے کر استحصال کا نشانہ بنانے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں متعدد قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم ٹک ٹاکر جہانگیر عرف کاکا سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک، کے ذریعے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے رابطہ کرتا، مختلف بہانوں سے انہیں بلاتا اور پھر مبینہ طور پر ان کا استحصال کرتا تھا۔ پولیس نے ملزم ٹک ٹاکر جہانگیر عرف کاکا کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قصور ماضی میں بھی ایسے افسوسناک واقعات کے باعث قومی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ کمسن بچی زینب سمیت کئی بچوں کے ساتھ پیش آنے والے سنگین جرائم نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ بعد ازاں بھی اس نوعیت کے متعدد مقدمات سامنے آتے رہے، تاہم ان کے باوجود ایسے جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا۔ حالیہ واقعے نے ایک بار پھر سوال اٹھا دیا ہے کہ آخر قصور میں اس نوعیت کے جرائم بار بار کیوں سامنے آ رہے ہیں؟ کیا صرف ملزمان کی گرفتاری کافی ہے، یا سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام، مؤثر نگرانی، بروقت قانونی کارروائی عوامی آگاہی کے لیے مزید جامع اقدامات کی ضرورت ہے؟ سابق پولیس افسران کے مطابق نوجوانوں کو آن لائن استحصال سے محفوظ رکھنے کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں ہی نہیں بلکہ والدین، تعلیمی اداروں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور معاشرے کے تمام طبقات کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
ٹک ٹاک پر دوستی، پھر ہوس کا نشانہ؛ قصور میں آن لائن بلیک میلنگ اور استحصال کا نیٹ ورک بے نقاب

