Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مہنگے پیٹرول سے جان چھڑائیں: حکومت نے الیکٹرک سواری خریدنے والے شہریوں کے لیے خزانے کے منہ کھول دیے

      سام سنگ کا نیا معرکہ؛ ’گلیکسی زی فولڈ 8 الٹرا‘ کی بڑی خصوصیات منظرعام پرآگئیں

      یوٹیوب شارٹس میں بڑی تبدیلی: اب تصاویر کے ذریعے بھی اسٹوری سنائیں

      سب میرین کیبل میں خرابی، انٹر نیٹ سست ، موبائل رجسٹریشن کا عمل معطل: پی ٹی اے کا اہم بیان سامنے آ گیا

      گوگل پر اربوں ڈالر کا جرمانہ: سویڈش عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    سی سی ڈی کو کیس سے دور کیوں رکھا گیا؟ لاہور کیس کے رازوں سے پردہ اٹھانے کا وقت آ گیا!

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر : اسد مرزا 
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    لاہور میں دو غیر ملکی خواتین سے مبینہ اغوا، تاوان طلبی، جنسی زیادتی اور تشدد کا مقدمہ صرف ایک سنگین فوجداری کیس نہیں رہا بلکہ اس نے پنجاب پولیس کے تفتیشی نظام، ادارہ جاتی خودمختاری اور مالی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
    ایف آئی آر کے مطابق ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کو سرمایہ کاری اور سیر و تفریح کے بہانے پاکستان بلایا گیا۔ بعد ازاں انہیں مبینہ طور پر اغوا کر کے ایک گھر میں رکھا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تاوان طلب کیا گیا اور جنسی زیادتی کی گئی۔ متاثرہ خواتین مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرا چکی ہیں، جبکہ پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی اور دوسری کے حوالے سے مبینہ زیادتی کی کوشش کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ متعدد ملزمان گرفتار ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
    اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واضح کیا کہ اس مقدمے کی تفتیش سی سی ڈی نہیں بلکہ لاہور پولیس ہی کرے گی۔ قانونی طور پر یہ اختیار موجود ہے، کہ آخر وہ کون سا معیار ہے جس کی بنیاد پر بعض مقدمات سی سی ڈی کے سپرد کیے جاتے ہیں جبکہ بعض انتہائی حساس کیسز مقامی پولیس کے پاس ہی رہتے ہیں۔ پنجاب پولیس کے مختلف حلقوں میں بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سی سی ڈی متعدد مقدمات اپنی تحویل میں لے لیتی ہے، خصوصاً وہ کیسز جنہیں حساس یا ہائی پروفائل قرار دیا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر موجودہ مقدمہ، جس میں غیر ملکی شہری، مبینہ تاوان، کرپٹو کرنسی، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی مالی لین دین جیسے پہلو شامل ہیں، کیا سی سی ڈی کے دائرہ کار میں نہیں آتا؟ اس سوال کا واضح جواب عوام کا حق ہے۔ مزید اہم پہلو مالی تحقیقات کا ہے۔ پولیس خود یہ کہہ چکی ہے کہ مقدمے میں مبینہ تاوان، کرپٹو کرنسی اور سرمایہ کاری سے متعلق معاملات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔ اگر دورانِ تفتیش کروڑوں ڈالر کے مبینہ لین دین یا مالی وسائل کا معاملہ سامنے آتا ہے تو کیا صرف پولیس کی تحقیقات کافی ہوں گی؟ یا پھر ایسے معاملات کی جانچ ان اداروں کو بھی کرنی چاہیے جو مالی جرائم، منی لانڈرنگ، ٹیکس ریکارڈ اور مشکوک مالی لین دین کی تحقیقات کے ذمہ دار ہیں، جیسے ایف بی آر، ایف آئی اے یا دیگر متعلقہ ادارے؟ میڈیا رپورٹس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کا نام بھی بطور ملزم سامنے آیا ہے۔ تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مقدمہ ابھی زیرِ سماعت اور زیرِ تفتیش ہے، اس لیے کسی بھی شخص کی قانونی ذمہ داری یا جرم کا تعین صرف عدالت ہی کر سکتی ہے۔ لیکن اگر تفتیش میں غیر معمولی مالی وسائل یا کروڑوں ڈالر کے مبینہ لین دین کے شواہد سامنے آتے ہیں تو قانون کی نظر میں ہر متعلقہ شخص سے یکساں بنیادوں پر پوچھ گچھ ہونی چاہیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی بااثر خاندان سے کیوں نہ ہو۔
    اصل امتحان یہی ہے کہ قانون کی حکمرانی صرف کمزور اور بے اثر افراد تک محدود نہ رہے بلکہ ہر بااثر شخصیت اور اس کے قریبی افراد پر بھی یکساں طور پر نافذ ہوتی نظر آئے۔ اسی سے عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور اداروں کی ساکھ مضبوط ہوگی۔
    یہ مقدمہ صرف دو غیر ملکی خواتین کے انصاف کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے تفتیشی نظام، ادارہ جاتی شفافیت اور احتساب کے اصولوں کی آزمائش بھی ہے۔ عوام اب یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تحقیقات مکمل غیر جانبداری سے آگے بڑھتی ہیں یا نہیں، سی سی ڈی کو اس مقدمے سے دور رکھنے کی وجوہات کیا ہیں، اور اگر مالی جرائم کے شواہد موجود ہیں تو کیا متعلقہ تحقیقاتی ادارے بھی قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
    اس کیس کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی، لیکن ریاستی اداروں پر یہ ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر پہلو، خصوصاً مالی معاملات، سیاسی اثر و رسوخ اور بین الاقوامی پہلوؤں کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائیں تاکہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آئے۔

    Related Posts

    ایک شخص نہاتے ہوٸے دریا پنجکوڑہ میں ڈوب گیا

    جعلی فرد تیار کرکے مسجد و مدرسہ کی رجسٹریشن کرنے پر مقدمہ درج

    نالہ ایک میں چھلانگ لگانے والی خاتون کی لاش برآمد

    مقبول خبریں

    گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کیس؛ قاتل کے فرار کے سنسنی خیز مناظر سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر

    تہران سوگوار؛ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جنازہ، لاکھوں کی شرکت "انتقام” کے نعروں سے فضا گونج اٹھی

    کوئٹہ، مسلح افراد اور قبائلی افراد میں جھڑپ، 4 افراد شہید 7 زخمی، ایئرپورٹ روڈ پر لاشوں کے ساتھ احتجاج جاری

    فٹبال کی دنیا کا ایک باب بند؛ کرسٹیانو رونالڈو کا 2026 ورلڈ کپ کے بعد بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

    اسرائیل کی ’’نئے ایڈونچر‘‘ کی تیاریاں؛ ریٹائر ہونے والے فوجیوں کو فوری طور پر ریزرو ڈیوٹی پر بلانے کا فیصلہ

    بلاگ

    اور:- سوال صرف ایک ہے۔۔۔ آخر کب تک۔

    کرائم کہانی ،ہاشم نورزئی قتل کیس، پولیس نے ’احتجاج اور فاتحہ میں شریک رہنے والا‘ ملزم کیسے پکڑا؟

    شدید گرمی کی لہر: اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کیسے کریں؟ چند سادہ احتیاطی تدابیر جو جان بچا سکتی ہیں

    شدید گرمی کی لہر: اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کیسے کریں؟

    اور:- کوئی تو ہماری ان چیخوں کو سنتا

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.