تل ابیب: اسرائیلی ڈیفنس فورسز ایک ہنگامی منصوبے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت لازمی فوجی سروس مکمل کرنے والے اہلکاروں کو فارغ ہوتے ہی فوری طور پر ریزرو ڈیوٹی (Reserve Duty) پر طلب کیا جائے گا۔
این ۱۲ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، فوج "تزاو 8” (Tzav 8) نامی ریزرو ڈرافٹ آرڈر کا نفاذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد جنگی محاذوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور فوجیوں کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ اس نئے حکم نامے کے تحت ایک فوجی کی مجموعی سروس کی مدت میں تقریباً دو ماہ کا اضافہ ہو جائے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب جنوری 2027 سے لازمی فوجی سروس کی مدت کو کم کر کے 30 ماہ کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے افرادی قوت کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اگر کنیسٹ (پارلیمنٹ) نے سروس میں توسیع کا قانون منظور نہیں کیا تو یہ ریزرو ڈرافٹ ایک عارضی متبادل کے طور پر استعمال ہوگا۔
رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس فیصلے سے اسرائیلی معیشت پر شدید دباؤ پڑے گا، کیونکہ ریزرو ڈیوٹی پر بلائے جانے والے ایک فوجی پر آنے والا خرچ عام فوجی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔
آئی ڈی ایف کے ایک سینئر عہدیدار نے اس اقدام کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں جمہوریت کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہاں ریزرو فوجیوں کو تیسرے سال بھی سو دن کے لیے ڈیوٹی پر بلانا ناقابلِ فہم ہے۔
آئی ڈی ایف کے پلاننگ اینڈ پرسنل ایڈمنسٹریشن ڈویژن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل شائی طیب نے حال ہی میں کنیسٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی کو خبردار کیا ہے کہ اگر جلد از جلد افرادی قوت سے متعلق قانون سازی نہ کی گئی تو اسرائیلی فوج کی باقاعدہ جنگی طاقت شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
فوج کے منصوبہ سازوں کے مطابق، اس بحران سے نمٹنے کے لیے نئے انفنٹری بٹالینز بنانے اور ریٹائرڈ فوجیوں کو دوبارہ ایکٹو ڈیوٹی پر واپس لانے جیسے اقدامات بھی زیرِ غور ہیں۔
اسرائیل کی ’’نئے ایڈونچر‘‘ کی تیاریاں؛ ریٹائر ہونے والے فوجیوں کو فوری طور پر ریزرو ڈیوٹی پر بلانے کا فیصلہ

