تحریر حاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

ہم "منچن آباد ” والوں نے بھی کیا خوب قسمت پائی ہے۔قیام پاکستان سے لیکر اج تک ہمارے حصے میں صرف اور صرف محرومیاں ہی محرومیاں دیکھنے کو ملیں ہیں۔پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ دور صدر جنرل محمدایوب خان کے عہد حکومت میں دیکھا گیا جب پاکستانیوں کو بڑے بڑے پراجیکٹ تکمیل کے مراحل طے کرتے ہوۓ دیکھنے کو ملے۔ڈیم بناۓ گئے۔نہروں کا جال بچھا، زراعت میں ترقی ہوئی ۔فیکٹریاں اور کارخانے لگے۔صنعتوں کا جال بچھا لیکن ” ہمارا شہر منچن آباد” اس ترقی کے ثمرات سے پھر بھی محروم رہا۔بعد میں آنیوالے ادوار کی نسبت میاں نواز شریف حکومت کے تینوں ادوار نسبتا” بہتر رہے۔ملک ایٹمی طاقت بنا۔موٹر ویز آئیں۔یونیورسٹیز بنیں۔بڑے بڑے ہسپتال بنے۔سڑکوں کا جال بچھا۔دانش اسکولز بنے لیکن شومئی قسمت سے ” ہمارے شہر منچن آباد” کی جھولی پھر بھی خالی کی خالی ہی رہی۔آج انہی میاں نواز شریف کی بیٹی میڈم مریم نواز شریف جنہیں عکس نواز شریف بھی کیا جاتا ہے وہ آجکل اقتدار میں ہیں۔ہر طرف انکے کئے گئے کاموں اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی دھوم مچی ہے۔ لیکن ” ہمارا شہر منچن آباد” پھر بھی محروم۔کل اسمبلی میں سینیئر منسٹر پنجاب "میڈم مریم اورنگ زیب” اپوزیشن کی تنقید کے جواب میں کہ رہی تھیں کہ:- "ہاں ہاں۔۔۔ہم نے جہاز خریدا ہے کیونکہ ہم نے عوام کی خدمت کیلئے دور دور کے علاقوں میں جانا ہوتا ہے۔”
میڈم آپ جہاز جتنے مرضی خریدیں کیونکہ آپکے پاس اقتدار بھی ہے، اختیار بھی ہے اور طاقت بھی۔ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ کاش! اس جہاز کا رخ کبھی ہمارے” شہر منچن آباد ” کی طرف بھی ہو جاتا جہاں قیام ہاکستان سے لیکر اب تک کوئی بھی ایسا صاحب اختیار شخص نہیں آیا جو ” ہمارے اس شہر کی ناگفتہ بہ اور خستہ حالت کو خود آکر دیکھتا اور اس کیلئے کچھ نہ کچھ سوچتا اور کرتا۔”
ہماری "تحصیل منچن آباد” صوبہ پنجاب کی ایک بڑی تحصیل ہونے کی بناء بڑی اہمیت کی حامل ہونا چاہئے تھی لیکن قیام پاکستان سے لیکر اب تک اس تحصیل کو اسکا جائز مقام کیوں نہ حاصل نہ ہو سکا۔آیئے ذرا دیکھیئے تو سہی،اس تحصیل کی محرومیوں کی ایک حقیقی تصویر:-
1- نہ کوئی بڑی انڈسٹری جو یہاں کے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرتی۔
2-نہ کوئی بڑا تعلیمی ادارہ۔۔۔،۔۔۔ جو اس علاقے کے طلبہ و طالبات کو جدید تعلیمی سہولیات دیتا۔
3-نہ کوئی بڑا اور اچھا ہسپتال۔۔۔۔۔ جہاں سے عوام کو علاج کی سہولت حاصل ہوتی۔
4-نہ ہی اس علاقے کی قسمت میں کوئی ایسا کارڈیالوجسٹ۔۔۔ جو دل کے مریضوں کا علاج کرتا اور ان کیلئے مسیحا بنتا۔
5-نہ کوئی ایسا راستہ۔۔۔۔۔ جو کسی بڑے موٹر وے سے منسلک ہوکر اسے ملک کے دیگر علاقوں سے ملانے کا ذریعہ بنتا۔
6- نہ کوئی ایسا میگا پراجیکٹ۔۔۔۔۔ جو اس علاقے کے محروم و مقہور لوگوں کی تقدیر کو بدلنے کا سبب بنتا۔
7-نہ یہاں کوئی ایسا کھیل کا میدان یا اسٹیڈیم۔۔۔۔۔۔۔ جو یہاں کے نوجوانوں کو مفید اور صحتنند سرگرمیاں فراہم کرتا۔
8-نہ یہاں۔۔۔۔۔۔ ریلوے جیسا سستا سفر کا ذریعہ جو ٹرانسپورٹ مافیا کی چیرہ دستیوں سے یہاں کے لوگوں کو نجات دلاتا۔
اس ضمن میں ایک چھوٹا سا واقعہ جو میرے اپنے ساتھ پیش آیا یہاں درج کیا جا ریا ہے تاکہ آپکو اندازہ ہو سکے کہ صحت جیسے اس ایک شعبے کا یہ حال ہے۔
گذشتہ دنوں رات کو میرے بائیں بازو میں ہونیوالے شدید درد کی بناء پر THQ ہوسپٹل منچن آباد کی ایمرجنسی میں جانا پڑا۔ جہاں ایک ڈاکٹر نما مخلوق موجود تھی۔ میرے بتانے کے باوجود انہوں نے سر اوپر اٹھا کر پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ”کیا مسلہ ہے”صرف حکم صادر فرمایا کہ بلڈ پریشر چیک کروا کر لاؤ۔بلڈ پریشر والے کو تلاش کیا تو اس بیچارے کو خود پتہ ہی نہیں تھا کہ” بلڈ پریشر کیسے چیک کرنا ہے” کافی دیر تک کوشش کرنے کے بعد کہنے لگا کہ” تھوڑا زیادہ ہی ہے”ڈاکٹر صاحب کو بتایا گیا تو انہوں نے حسب معمول کاغذ کے ایک مڑے تڑے پرزے پر” انجکشن lasix لکھا” اور باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ پوچھنا یہ تھا کہ بندے کو شدید تکلیف ہو اور وہ پریشان بھی ہو اور ایسے میں اسے علاج نہ ملے تو ایسے ہوسپٹل کا کھلے رہنا سوالیہ نشان نہیں ہے۔
قابل توجہ۔۔۔۔۔یہ سب کیوں۔؟ کیا اس تحصیل کے لوگوں میں۔!
"اجتماعی شعور کی کمی ہے۔۔تعلیم کی کمی ہے۔۔قیادت کی کمی ہے۔۔وفاداری کی کمی ہے۔۔یا پھر۔۔ اس تحصیل کے لوگ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ وہ دور جدید کی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔”
"ہمارا شہر منچن آباد”
جہاں ساری ساری رات اور سارا سارا دن بجلی نہیں ہوتی کیونکہ بجلی کا موجودہ انفراسٹرکچر شہر میں بجلی کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا اسلئے روزانہ بار بار ٹرانسفارمرز فیوز ہوتے ہیں اور نتیجے کے طور پر پورے شہر کی بجلی کئی کئی گھنٹوں کیلئے بند ہو جاتی ہے اور پھر شدید گرمی اور مچھر کے کاٹنے کی بناء پر ہر گھر میں سے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی چیخیں بلند ہوتی ہیں۔کاش کوئی تو ایسا ہوتا جو ان چیخوں کو سنتا اور اسکا حل نکالتا یا پھر یونہی اس "شہر منچن آباد ” کی حرومیوں کے ساۓ اور گہرے ہوتے رہیں گے۔

