امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ دوحہ میں جاری مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید دراصل ایک دانستہ ’فارسی طرزِ مذاکرات‘ ہے، جبکہ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان تکنیکی سطح کی بات چیت جاری ہے۔
دی مائیکل نولز شو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو منگل کو نشر کیا گیا، جے ڈی وینس نے کہا’مقررہ مذاکرات ہونے تھے، دراصل تکنیکی نوعیت کے مذاکرات، جو پہلے سے جاری بات چیت کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں، اور یہ یقینی طور پر یکم جولائی کو ہو رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ تہران کے عوامی بیانات انھیں ’دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن‘ لگتے ہیں، کیونکہ ایرانی حکام ایک طرف امن مذاکرات کی تردید کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب تکنیکی سطح کی بات چیت کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔
ان کے بقول ’وہ کہتے ہیں کہ نہیں، امن مذاکرات نہیں ہو رہے، لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک فارسی طرزِ مذاکرات اور بیانیہ ہے جسے میں سمجھ نہیں پاتا۔‘
وائٹ ہاؤس کے نمائندے سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پیر کے روز اس وقت دوحہ روانہ ہوئے تھے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے قطری دارالحکومت میں ملاقات کی درخواست کی ہے۔ تاہم ایران نے امریکا کے ساتھ کسی براہ راست ملاقات کی منصوبہ بندی کی تردید کی ہے، جبکہ یہ بھی کہا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے مشاورت کا عمل جاری ہے۔
دریں اثنا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے مختلف میڈیا اداروں کو دیے گئے انٹرویوز میں کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام بھی ہو جاتے ہیں تب بھی امریکا ایک ’بہت مضبوط پوزیشن‘ میں ہوگا۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نتائج سے قطع نظر مضبوط حالات میں ہے۔ ان کے بقول امریکا ’واضح طور پر‘ چاہتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی امریکا ایران کے مقابلے میں ’کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن‘ میں رہے گا۔
جے ڈی وینس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران کے جوہری پروگرام اور فوجی صلاحیت کو ’تباہ کر دیا گیا ہے‘۔ انھوں نے خبردار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ایران کی کسی بھی کارروائی کے جواب میں امریکا فوجی ردعمل دے گا۔
انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ اگر ایک مستقل حل کے لیے جاری مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایران ’بنیادی طور پر تبدیل‘ ہو جائے گا۔
اس سے قبل نائب صدر نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم تہران کی جانب سے امریکا کے ساتھ کسی قسم کے امن مذاکرات کی تردید کی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز میں چھیڑ چھاڑ کی تو فوجی جواب ملے گا: نائب صدر جے ڈی وینس کی ایران کو سخت وارننگ

