اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اسرائیلی سرزمین کی جانب میزائل داغے تو اسرائیل کل یا دو دن کے اندر خود کو ایران کے ساتھ جنگ کی حالت میں پا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج ایران کے اندر اہداف کے خلاف ایک آزاد فوجی آپریشن کی تیاری کر رہی ہے، جسے انہوں نے ‘بلیو اینڈ وائٹ’ آپریشن کا نام دیا ہے۔
کاٹز نے یہ تبصرہ پیر کے روز فوجی اور سفارتی نامہ نگاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف مکمل فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے دو اہم منظر نامے ہیں، جن میں پہلا جاری مذاکرات کے ختم ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حملے دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ… اور دوسرا ایران کا اسرائیل پر میزائل فائر کرنا ہے۔
کاٹز نے کہا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر میزائل فائر کیے تو اسرائیل ایران پر پوری طاقت سے حملہ کرے گا، کوئی ایسی مساوات قبول نہیں جس کے تحت ایران اسرائیل پر فائرنگ کرے اور جواب نہ دیا جائے اور یہ سب دو دن کے اندر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کو ایران میں ‘بلیو اینڈ وائٹ’ آپریشن کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے، فوج اس کی منتظر ہے اور ہائی الرٹ پر ہے اور اہداف موجود ہیں۔
کاٹز نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل دوحہ میں ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ نہیں کرنا چاہتا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ جب بات اپنے دفاع کی ہو تو لبنان ہو یا ایران، کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ موقف امریکی فریق کو بھی واضح طور پر بتا دیا گیا ہے۔
وزیر نے نشاندہی کی کہ ایران کے پاس اب بھی میزائل ذخیرہ اور فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل نے گذشتہ آپریشنز میں زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ مزید یہ کہ ایران کی قیادت بشمول سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، جنہیں انہوں نے ایک ہدف قرار دیا، پناہ گاہوں میں موجود ہے۔
’’آپریشن بلیو اینڈوائٹ’’ اسرائیل نے ایران کے خلاف دو دنوں کے اندر دوبارہ جنگ کرنے کا اعلان کردیان

