واشنگٹن (رپورٹ: نیوز ڈیسک) امریکی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا میں ‘پیدائشی شہریت’ (برتھ رائٹ سٹیزن شپ) کو محدود کرنے کی متنازع کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ اور قانونی موقف
سپریم کورٹ کے 6 ججوں نے 3 کے مقابلے میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس جان رابرٹس کی تحریر کردہ عدالتی رائے میں واضح کیا گیا کہ 1898 کے معروف مقدمے ‘یونائیٹڈ اسٹیٹس بمقابلہ وونگ کم آرک’ کا فیصلہ آج بھی اپنی جگہ درست ہے، جس کے تحت امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر بچے کو، قطع نظر اس کے والدین کی شہریت کے، خودکار طور پر امریکی شہریت حاصل ہوتی ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 14ویں آئینی ترمیم کے تحت شہریت کے حق کو محدود کرنے کے لیے انتظامیہ کے پاس کوئی ٹھوس آئینی شواہد موجود نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے لکھا کہ اگر کانگریس کی ایسی کوئی نیت ہوتی تو آئین کے متن میں اس کا ذکر ضرور ہوتا۔
پسِ منظر: ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر
صدر ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے پہلے ہی روز ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ ایسے بچوں کو امریکی شہریت نہ دی جائے جن کے والدین نہ تو امریکی شہری ہوں اور نہ ہی قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) ہوں۔ ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ یہ پالیسی ‘برتھ ٹورازم’ (صرف شہریت کے حصول کے لیے امریکا آمد) جیسی صنعتوں کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
عدالتی کارروائی کا اہم پہلو
یکم اپریل کو ہونے والی سماعت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے خود عدالت میں آ کر کارروائی کا مشاہدہ کیا، جس سے وہ تاریخ کے پہلے حاضر سروس صدر بن گئے جنہوں نے سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت براہ راست سنی۔ تاہم، عدالتی دلائل کے دوران انتظامیہ کے وکیل ڈی جان ساؤر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ‘برتھ ٹورازم’ کا مسئلہ کتنا سنگین ہے اور وہ اس کے اعداد و شمار پیش کرنے سے بھی قاصر رہے۔
فیصلے کے اثرات
قانونی ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے ہر سال پیدا ہونے والے تقریباً ڈھائی لاکھ بچوں کی قانونی حیثیت محفوظ ہو گئی ہے۔ اگر ٹرمپ کا فیصلہ برقرار رہتا تو لاکھوں خاندانوں کو اپنے بچوں کی شہریت ثابت کرنے کے لیے طویل اور پیچیدہ قانونی جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
امیگریشن پر عدالتی توازن
یہ رواں سال کا دوسرا موقع ہے جب سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے کسی بڑے اقدام کو روکا ہے۔ اس سے قبل فروری میں عدالت نے عالمی ٹیرفس (محصولات) کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔ تاہم، دوسری جانب عدالت نے ہیٹی اور شام کے تارکینِ وطن کے حوالے سے اور سرحد پر پناہ کے متلاشی افراد کے معاملے پر کچھ فیصلوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت بھی کی ہے۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی موجودہ عدالتی مدت کا آخری فیصلہ ہے، جس نے امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے کہ امریکا میں پیدا ہونے والے تمام افراد کو یکساں آئینی تحفظ حاصل ہے۔
امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: صدر ٹرمپ کی ‘برتھ رائٹ سٹیزن شپ’ ختم کرنے کی کوشش ناکام

